Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
304 - 476
 کو (صحیح فیصلہ کرنے سے) ہٹانے کا ارادہ کیا تھا حالانکہ وہ اپنے آپ ہی کو گمراہ کررہے تھے اور آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی اور آپ کو وہ سب کچھ سکھا دیا جو آپ نہ جانتے تھے اور آپ پر اللہ کا فضل بہت بڑا ہے۔
{ لَہَمَّتۡ طَّآئِفَۃٌ مِّنْہُمْ: ان میں سے ایک گروہ نے ارادہ کیا تھا۔} یہاں سابقہ واقعہ کے اعتبار ہی سے کلام چل رہا ہے، چنانچہ فرمایا گیا کہ اے حبیب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تم پر بڑا فضل فرمایا اور رحمت کی کہ تمہیں نبی معصوم بنایا اور رازوں پر مطلع فرما یا۔ اگر پروردگارِ عالم نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کو معصوم نہ بنایا ہوتا اور آپ پر تمام عُلوم ظاہر نہ کر دئیے ہوئے تو یہ آپ کو بہکا دیتے۔ یہاں بہکانے سے مراد دھوکہ دے کر غلط فیصلہ کروا لینا ہے۔ وہ لوگ جو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں یہ تو اپنے آپ کو گمراہ کررہے ہیں کیوں کہ اس کا وبال انہیں پر ہے، یہ حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کو دھوکا نہیں دے سکتے کیونکہ اُن کی حفاظت ان کا ربّ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے۔ نیز فرمایا کہ یہ لوگ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کو ہمیشہ کے لئے معصوم بنایا ہے۔
{ وَعَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ: اور تمہیں وہ سب کچھ سکھادیا جو تم نہ جانتے تھے۔} یہ آیتِ مبارکہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی عظیم مدح پر مشتمل ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ، اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی اور آپ کو دین کے اُمور ، شریعت کے احکام اور غیب کے وہ عُلوم عطا فرما دئیے جو آپ نہ جانتے تھے ۔
نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے علمِ غیب سے متعلق چند ضروری باتیں :
	یہاں حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے علمِ غیب سے متعلق چند ضروری باتیں ذہن نشین رکھیں کہ مسلمانوں کا عقیدہ اس بارے میں کیا ہے۔ یہ باتیں پیشِ نظررہیں تو اِنْ شَآءَ اللہُ عَزَّوَجَلَّ کوئی گمراہ بہکانہ سکے گا، چنانچہ اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنْ فرماتے ہیں :
(1)…بے شک غیرِ خدا کے لیے ایک ذرہ کا علمِ ذاتی نہیں اس قدر (یعنی اتنی بات) خود ضروریاتِ دین سے ہے اور اس کامنکر کافر ہے۔
(2)…بے شک غیرِ خدا کا علم اللہ تعالیٰ کی معلومات کو حاوی نہیں ہوسکتا، برابر تو درکنار۔ تمام اَوّلِین و آخِرین، اَنبیاء