ؕ قُلْ مَتٰعُ الدُّنْیَا قَلِیۡلٌ (النساء :۷۷)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے حبیب! تم فرما دو کہ دنیا کاسازو سامان تھوڑا ساہے۔
تو جس کے سامنے پوری دنیا کا علم اور خود ساری دنیا قلیل ہے وہ جس کے علم کوعظیم فرما دے ا س کی عظمتوں کا اندازہ کون لگا سکتا ہے ۔ (تفسیر کبیر، النساء، تحت الآیۃ: ۱۱۳، ۴/۲۱۷)
لَا خَیۡرَ فِیۡ کَثِیۡرٍ مِّنۡ نَّجْوٰىہُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَۃٍ اَوْ مَعْرُوۡفٍ اَوْ اِصْلٰحٍۭ بـَیۡنَ النَّاسِ ؕ وَمَنۡ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللہِ فَسَوْفَ نُؤْتِیۡـہِ اَجْرًا عَظِیۡمًا﴿۱۱۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: ان کے اکثر مشوروں میں کچھ بھلائی نہیں مگر جو حکم دے خیرات یا اچھی بات یا لوگوں میں صلح کرنے کا اور جو اللہ کی رضا چاہنے کو ایسا کرے اسے عنقریب ہم بڑا ثواب دیں گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اُن کے اکثرخفیہ مشوروں میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی مگر ان لوگوں (کے مشوروں ) میں جو صدقے کا یا نیکی کا یا لوگوں میں باہم صلح کرانے کا مشورہ کریں اور جو اللہ کی رضامندی تلاش کرنے کے لئے یہ کام کرتا ہے تواسے عنقریب ہم بڑا ثواب عطا فرمائیں گے۔
{ لَا خَیۡرَ فِیۡ کَثِیۡرٍ مِّنۡ نَّجْوٰىہُمْ:ان کے اکثر مشوروں میں کچھ بھلائی نہیں۔} یہاں عام لوگوں کے حوالے سے بیان فرمایا گیا کہ ان کے زیادہ تر کلام اور مشوروں میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی کیونکہ عوامی کلام زیادہ تر فضولیات پر مشتمل ہوتا ہے اور ان کے مشورے بے فائدہ مغز ماری پر مَبنی ہوتے ہیں جن کا نتیجہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔ ان کی بجائے وہ لوگ جو آپس میں اچھے کاموں کیلئے کلام یا مشورہ کرتے ہیں جیسے صدقہ دینے کا حکم دیتے ہیں یا لوگوں کو نیکی کی دعوت دیتے ہیں یا نیکی کی دعوت عام کرنے کیلئے مشورے کرتے ہیں یا لوگوں میں صلح کروانے کیلئے مل بیٹھتے ہیں تو ایسے لوگوں کے مشوروں میں خیر اور بھلائی ہے۔
آیت’’ لَا خَیۡرَ فِیۡ کَثِیۡرٍ مِّنۡ نَّجْوٰىہُمْ ‘‘ کے چند پہلو:
اس آیت ِ مبارکہ میں اُس گروہ کے لئے نصیحت ہے جن کے مشورے فضولیات پر مشتمل ہوتے ہیں یا جو مَعَاذَاللہ