Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
303 - 476
 نے کسی کی کوئی ایسی بات ذکر کی جو اس میں نہیں تا کہ اس کے ذریعے اس کو عیب زدہ کرے تواللہ تعالیٰ اسے جہنم میں قید کر دے گا یہاں تک کہ وہ اپنی کہی ہوئی بات ثابت کرے۔(اس سے مراد یہ ہے کہ وہ طویل عرصے تک عذاب میں مبتلا رہے گا) 
(معجم الاوسط، من اسمہ مقدام، ۶/۳۲۷، الحدیث: ۸۹۳۶)
	حضرت عمرو بن العاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: جس مرد یا عورت نے اپنی لونڈی کو ’’اے زانیہ‘‘ کہا جبکہ اس کے زنا سے آگاہ نہ ہو تو قیامت کے دن وہ لونڈی انہیں کوڑے لگائے گی، کیونکہ دنیا میں ان کے لئے کوئی حد نہیں۔  (مستدرک، کتاب الحدود، ذکر حد القذف، ۵/۵۲۸، الحدیث: ۸۱۷۱) 
اسلام کا اعلیٰ اخلاقی اصول:
	 اس آیت سے ایک تو کسی پر بہتان لگانے کا حرام ہونا واضح ہوا اور دوسرا اسلام کے اعلیٰ اخلاقی اصولوں کا علم ہوا کہ اسلام میں انسانی حقوق کا کس قدر پاس اور لحاظ ہے، حتّی کہ کافر تک کے حقوق اسلام میں بیان کئے گئے ہیں۔ یہ واقعہ اور آیات ِ مبارکہ کفار کے سامنے پیش کرنے کی ہیں کہ دیکھو اسلام کی تعلیمات کتنی حسین اور عمدہ ہیں۔ 
وَلَوْلَا فَضْلُ اللہِ عَلَیۡکَ وَرَحْمَتُہٗ لَہَمَّتۡ طَّآئِفَۃٌ مِّنْہُمْ اَنۡ یُّضِلُّوۡکَ ؕ وَمَا یُضِلُّوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَہُمْ وَمَا یَضُرُّوۡنَکَ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ وَاَنۡزَلَ اللہُ عَلَیۡکَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَعَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ ؕ وَکَانَ فَضْلُ اللہِ عَلَیۡکَ عَظِیۡمًا﴿۱۱۳﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور اے محبوب اگراللہ کا فضل و رحمت تم پر نہ ہوتا تو ان میں کے کچھ لوگ یہ چاہتے کہ تمہیں دھوکا دے دیں اور وہ اپنے ہی آپ کو بہکا رہے ہیں اور تمہارا کچھ نہ بگاڑیں گے اوراللہ نے تم پر کتاب اور حکمت اتاری اور تمہیں سکھا دیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے اور اللہ کا تم پر بڑا فضل ہے ۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اے حبیب! اگر تمہارے اوپراللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ان میں ایک گروہ نے آپ