(2)… حضرت جریر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ نکالا پھر اس کے بعد اُس پر عمل کیا گیا تو عمل کرنے والے کے ثواب کی مثل ثواب اِس کے نامۂ اعمال میں لکھا جائے گا اور اُن عمل کرنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی بھی نہ ہو گی اور جس نے اسلام میں کوئی برا طریقہ جاری کیا پھر اس کے بعداُس پر عمل کیا گیا تو عمل کرنے والے کے گناہ کی مثل گناہ اُس کے نامۂ اعمال میں لکھا جائے گا اور اِن عمل کرنے والوں کے گناہ میں بھی کوئی کمی نہ ہو گی۔
(مسلم، کتاب العلم، باب من سنّ سنّۃ حسنۃ او سیئۃ۔۔۔ الخ، ص۱۴۳۷، الحدیث: ۱۵(۲۶۷۳))
(3)…حضرت ابو مسعود انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے کسی بھلائی کے کام پر رہنمائی کی تو اس کے لئے وہ کام کرنے والے کی طرح ثواب ہے۔
(مسلم، کتاب الامارۃ، باب فضل اعانۃ الغازی فی سبیل اللہ۔۔ الخ، ص۱۰۵۰، الحدیث: ۱۳۳(۱۸۹۳))
(4)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : جو ہدایت کی طرف بلائے تو اسے ویسا ثواب ملے گا جیسا اس کی پیروی کرنے والے کو ملے گا اور ان پیروی کرنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہو گی اور جو گمراہی کی طرف بلائے تو اسے ویسا گنا ہ ملے گا جیسا اس کی پیروی کرنے والے کو ملے گا اور ان پیروی کرنے والوں کے گناہ میں کوئی کمی نہ ہو گی۔
(مسلم، کتاب العلم، باب من سنّ سنّۃ حسنۃ او سیئۃ۔۔۔ الخ، ص۱۴۳۸، الحدیث: ۱۶(۲۶۷۴))
{ وَمَنۡ یَّکْسِبْ خَطِیۡٓىـَٔۃً اَوْ اِثْمًا: اور جو کوئی غلطی یا گناہ کا اِرتِکاب کرے۔} اس آیت میں تیسری بات ارشاد فرمائی گئی کہ جس نے کسی بے گناہ پر الزام لگایا تو اس نے بہتان اور بہت بڑے گناہ کا بوجھ اٹھایا۔ آیت میں گناہ سے مراد گناہِ کبیرہ اور خطا سے مراد گناہِ صغیرہ ہے۔
بے گناہ پر تہمت لگانے کی مذمت:ـ
اس آیت سے معلوم ہو اکہ بے گناہ کو تہمت لگانا سخت جرم ہے وہ بے گناہ خواہ مسلمان ہو یا کافر کیونکہ طعمہ نے یہودی کافر کو بہتان لگایا تھا اس پراللہ تعالیٰ نے ا س کی مذمت فرمائی ۔احادیث میں بھی بے گناہ پرتہمت لگانے کی وعیدیں بیان کی گئی ہیں ،چنانچہ
حضرت ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: جس