Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
301 - 476
فَقَدِ احْتَمَلَ بُہۡتٰنًا وَّ اِثْمًا مُّبِیۡنًا ﴿۱۱۲﴾٪
ترجمۂکنزالایمان: اور جو کوئی برائی یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے بخشش چاہے تو اللہ کو بخشنے والا مہربان پائے گا اور جو گناہ کمائے تو اس کی کمائی اسی کی جان پر پڑے اور اللہ علم و حکمت والا ہے  اور جو کوئی خطا یا گناہ کمائے پھر اسے کسی بے گناہ پر تھوپ دے اس نے ضرور بہتان اور کھلا گناہ اٹھایا۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جو کوئی برا کام کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے مغفرت طلب کرے تو اللہ کو بخشنے والا مہربان پائے گا۔ اور جو گناہ کمائے تو وہ اپنی جان پر ہی گناہ کمار ہا ہے اوراللہ علم و حکمت والا ہے۔ اور جو کوئی غلطی یا گناہ کا ارتکاب کرے پھر کسی بے گناہ پر اس کا الزام لگا دے تویقینا اس نے بہتان اور کھلا گناہ اٹھایا۔
{ وَمَنۡ یَّعْمَلْ سُوۡٓءًا: اور جوبرا عمل کرے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات میں تین چیزیں بیان فرمائی گئیں۔ پہلی یہ کہ جو شخص کوئی برا عمل کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ سے معافی کا طلبگار ہواور سچی توبہ کرے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرے تو وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کو غفور ورحیم پائے گا۔ سُبْحَانَ اللہ۔ دوسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ جو گناہ کرے گا وہی اس گناہ کا وبال اٹھائے گا، یہ نہ ہوگا کہ گناہ کوئی کرے اور اس کا وبال کسی دوسرے کی گردن پر رکھ دیا جائے ۔
گناہ جارِیَہ کا سبب بننے والے کوگناہ کرنے والے کے گناہ سے بھی حصہ ملے گا:
	یہاں یہ بات یادرہے کہ جو کسی گناہ جاریہ کا سبب بنا تو اسے گناہ کرنے والوں کے گناہ سے بھی حصہ ملے گا جیسے کسی نے سینما کھولا یا شراب خانہ کھولا یا بے حیائی کا اڈا کھولا یا اپنی دکان وغیرہ پر فلمیں چلائیں جہاں لوگ بیٹھ کر دیکھیں یا کسی کو غلط راہ پر لگادیا یا کسی کو شراب، جوا یا نشے کا عادی بنادیا تو اس صورت میں گناہ کا کام کرنے والے اور اُسے اِس راہ پر لگانے والے دونوں کو گناہ ہوگا۔ احادیث میں یہ مضمون بکثرت ملتا ہے ، چنانچہ ان میں سے4اَحادیث درج ذیل ہیں :
(1)…حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، نبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ہر وہ جان جسے ظُلماً قتل کیا جائے تو اُس کے خون کا گناہ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے پہلے بیٹے پرہو گا کیونکہ اس نے قتل کا طریقہ نکالا۔ (بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب خلق آدم صلوات اللہ علیہ وذرّیتہ، ۲/۴۱۳، الحدیث: ۳۳۳۵)