Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
295 - 476
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے حبیب! بیشک ہم نے تمہاری طرف سچی کتاب اتاری تاکہ تم لوگوں میں اس (حق) کے ساتھ فیصلہ کرو جواللہ نے تمہیں دکھایا ہے اورتم خیانت کرنے والوں کی طرف سے جھگڑا نہ کرنا۔اور اللہ کی بارگاہ میں استغفار کریں۔ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
{ اِنَّاۤ اَنۡزَلْنَاۤ اِلَیۡکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ:اے حبیب!بیشک ہم نے تمہاری طرف سچی کتاب اتاری۔} اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ انصار کے قبیلہ بنی ظفر کے ایک شخص طُعْمَہ بن اُبیر ِق نے اپنے ہمسایہ قتادہ بن نعمان کی زرہ چرا کر آٹے کی بوری میں ایک یہودی کے ہاں چھپادی جب زرہ کی تلاش ہوئی اور طعمہ پر شُبہ کیا گیا تو وہ انکار کرگیا اور قسم کھا گیا۔ بوری پھٹی ہوئی تھی اور آٹا اس میں سے گرتا جاتا تھا، اس کے نشان سے لوگ یہودی کے مکان تک پہنچے اور بوری وہاں پائی گئی، یہودی نے کہا کہ طعمہ اس کے پاس رکھ گیا ہے اور یہودیوں کی ایک جماعت نے اس کی گواہی دی اور طعمہ کی قوم بنی ظفر نے یہ عَزم کرلیا کہ یہودی کو چور قرار دیں گے اور اس پر قسم کھالیں گے تاکہ ہماری قوم رسوا نہ ہو اور ان کی خواہش تھی کہ رسولِ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ طعمہ کو بری کردیں اور یہودی کو سزا دیں۔ اسی لیے انہوں نے سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے سامنے طعمہ کے حق میں اور یہودی کے خلاف جھوٹی گواہی دی۔ تب یہ آیتِ کریمہ اتری۔
(بیضاوی، النساء، تحت الآیۃ: ۱۰۵، ۲/۲۴۸) 
حکام فیصلہ کرنے میں کوتاہی نہ کریں :
	اس آیت میں بظاہر خطاب حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ سے ہے لیکن در حقیقت قیامت تک کے حکام کو سنانا مقصود ہے کہ فیصلہ کرنے میں کوتاہی نہ کیا کریں اور صحیح ملزم کو بغیر رُو رعایت سزا پوری دیا کریں۔ طعمہ بظاہر مومن تھا اور یہودی کافر تھا مگر فیصلہ اس موقعہ پر یہودی کے حق میں ہوا۔
تَعَصُّب کا رد:
	 اسی آیت سے تعصب کا رد بھی ہوتا ہے کہ اسلام میں اس بات کی کوئی گنجائش نہیں کہ آدمی اپنی قوم یا خاندان کی ہر معاملے میں تائید کرے اگرچہ وہ باطل پر ہوں بلکہ حق کی اِتّباع کرنا ضروری ہے۔ اس میں رنگ و نسل، قوم وعلاقہ، ملک و صوبہ، زبان و ثقافت کے ہر قسم کے تعصب کا رد ہے۔ کثیر احادیث میں بھی تعصب کا شدید رد کیا گیا ہے ، چنانچہ ان میں سے 3احادیث درج ذیل ہیں :