(1)…حضرت فُسِیلہرَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں : میرے والد نے حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں عرض کی :یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ، کیا اپنی قوم سے محبت رکھنا بھی تعصب ہے؟ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ، نے ارشاد فرمایا ’’نہیں ، بلکہ اپنی قوم کی ظلم میں مدد کرنا تعصب ہے۔
(ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب العصبیۃ، ۴/۳۲۷، الحدیث: ۳۹۴۹)
(2)…حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جو بلا وجہ جنگ کرے یا تعصب کی جانب بلائے یا تعصب کی وجہ سے غصہ کرے تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔
(ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب العصبیۃ، ۴/۳۲۶، الحدیث: ۳۹۴۸)
(3)…حضرت ابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بد ترین شخص وہ ہو گا جس نے کسی کی دنیا کی خاطر اپنی آخرت برباد کر لی۔
(ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب اذا التقی المسلمان بسیفہما، ۴/۳۳۹، الحدیث: ۳۹۶۶)
وَلَا تُجٰدِلْ عَنِ الَّذِیۡنَ یَخْتَانُوۡنَ اَنۡفُسَہُمْ ؕ اِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ مَنۡ کَانَ خَوَّانًا اَثِیۡمًا ﴿۱۰۷﴾ۚۙ
ترجمۂکنزالایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔
{ وَلَا تُجٰدِلْ عَنِ الَّذِیۡنَ یَخْتَانُوۡنَ: اور خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑنا:} گزشتہ آیت میں اور اِس آیت میں فرمایا کہ خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑو۔
خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے کی مذمت:
اس سے وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم