وَلَا تَہِنُوۡا فِی ابْتِغَآءِ الْقَوْمِ ؕ اِنۡ تَکُوۡنُوۡا تَاۡلَمُوۡنَ فَاِنَّہُمْ یَاۡ لَمُوۡنَ کَمَا تَاۡلَمُوۡنَ ۚ وَتَرْجُوۡنَ مِنَ اللہِ مَا لَا یَرْجُوۡنَ ؕ وَکَانَ اللہُ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿۱۰۴﴾٪
ترجمۂکنزالایمان: اور کافروں کی تلاش میں سستی نہ کرو اگر تمہیں دکھ پہنچتا ہے تو انہیں بھی دکھ پہنچتا ہے جیسا تمہیں پہنچتا ہے اور تم اللہ سے وہ امید رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کافروں کی تلاش میں سستی نہ کرو ۔اگر تمہیں دکھ پہنچتا ہے توجیسے تمہیں دکھ پہنچتا ہے ویسے ہی انہیں بھی دکھ پہنچتا ہے حالانکہ تم اللہ سے وہ امید رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے۔ اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔
{ وَلَا تَہِنُوۡا فِی ابْتِغَآءِ الْقَوْمِ : اور کافروں کی تلاش میں سستی نہ کرو ۔} اس آیت کاشانِ نزول یہ ہے کہ احدکی جنگ سے جب ابو سفیان اور ان کے ساتھی واپس ہوئے توسرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے جو صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اُحد میں حاضر ہوئے تھے انہیں مشرکین کے تَعاقُب میں جانے کا حکم دیا، صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم زخمی تھے، انہوں نے اپنے زخموں کی شکایت کی اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۱۰۴، ۱/۴۲۶)
اور فرمایا گیا کہ اگر تمہیں تکلیف پہنچی ہے تو انہیں بھی پہنچی ہے نیز تمہیں تو تکلیفیں اٹھانے پراللہ عَزَّوَجَلَّ سے ثواب کی امید ہے جبکہ کافروں کو ایسی کوئی امید نہیں تو تم پیچھا کرنے میں سستی نہ کرو۔
اِنَّاۤ اَنۡزَلْنَاۤ اِلَیۡکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیۡنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىکَ اللہُ ؕ وَلَا تَکُنۡ لِّلْخَآئِنِیۡنَ خَصِیۡمًا ﴿۱۰۵﴾ۙ وَّاسْتَغْفِرِ اللہَ ؕ اِنَّ اللہَ کَانَ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۱۰۶﴾ۚ
ترجمۂکنزالایمان: اے محبوب بے شک ہم نے تمہاری طرف سچی کتاب اتاری کہ تم لوگوں میں فیصلہ کرو جس طرح تمہیں اللہ دکھائے اور دغا والوں کی طرف سے نہ جھگڑو ۔اور اللہ سے معافی چاہو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔