فَاِذَا قَضَیۡتُمُ الصَّلٰوۃَ فَاذْکُرُوا اللہَ قِیٰمًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰی جُنُوۡبِکُمْ ۚ فَاِذَا اطْمَاۡنَنۡتُمْ فَاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ ۚ اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ کِتٰبًا مَّوْقُوۡتًا ﴿۱۰۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: پھر جب تم نماز پڑھ چکو تو اللہکی یاد کرو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹوں پر لیٹے پھر جب مطمئن ہو جاؤ تو حسبِ دستور نماز قائم کرو بے شک نماز مسلمانوں پر وقت باندھا ہوا فرض ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر جب تم نماز پڑھ لوتو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹوں پر لیٹے اللہ کو یاد کرو پھر جب تم مطمئن ہو جاؤ توحسب ِ معمول نماز قائم کرو بیشک نماز مسلمانوں پر مقررہ وقت میں فرض ہے۔
{ فَاذْکُرُوا اللہَ: تو اللہ کو یاد کرو۔} یعنی ذکرِ الٰہی کی ہر حال میں ہمیشگی کرو اور کسی حال میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذکر سے غافل نہ رہو۔ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے ہر فرض کی ایک حد معیَّن فرمائی سوائے ذکر کے کہ اس کی کوئی حد نہ رکھی بلکہ فرمایا کہ ذکر کرو کھڑے بیٹھے کروٹوں پر لیٹے، رات میں ہو یا دن میں ،خشکی میں ہو یا تری میں ،سفر میں اور حضر میں ، غناء میں اور فقر میں ، تندرستی اور بیماری میں پوشیدہ اور ظاہر۔
(تفسیر طبری، النساء، تحت الآیۃ: ۱۰۳، ۴/۲۶۰)
اللہ تعالیٰ کے ذکر سے متعلق2شرعی مسائل:
یہاں آیت کی مناسبت سے اللہ تعالی کے ذکر سے متعلق 2 شرعی مسائل ملاحظہ ہوں
(1)…اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نمازوں کے بعد جو کلمہ توحیدکا ذکر کیا جاتا ہے وہ جائز ہے جیسا کہ مشائخ کی عادت ہے اور بخاری و مسلم کی احادیثِ صحیحہ سے بھی یہ ذکرثابت ہے ۔ چنانچہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :حضورِا قدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ہر فرض نماز کے بعد یوں کہا کرتے تھے ’’لَا اِلٰـہَ اِلاَّ اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ، وَلَہُ الْحَمْدُ، وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، اللہُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا اَعْطَیْتَ، وَلَا مُعْطِیَ لِمَا