Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
292 - 476
 مَنَعْتَ، وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ‘‘ یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لئے سب تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، اے اللہ ! جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روکے اسے کوئی دینے والا نہیں اور کسی دولت مند کو تیرے مقابلے پر دولت نفع نہیں دے گی۔
(بخاری، کتاب الاذان، باب الذکر بعد الصلاۃ، ۱/۲۹۴، الحدیث: ۸۴۴)
	صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن زبیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  ہر نماز میں سلام پھیرنے کے بعد یہ فرماتے تھے :لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہِ لَا اِلٰـہَ اِلاَّ اللہُ وَلَا نَعْبُدُ اِلاَّ اِیَّاہُ لَہُ النِّعْمَۃُ وَلَہُ الْفَضْلُ وَلَہُ الثَّنَائُ الْحَسَنُ لَا اِلٰـہَ اِلاَّ اللہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُوْنَ ‘‘ اور حضرت عبد اللہ بن زبیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے کہاکہ رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ہر نماز کے بعد یہ کلمات بلند آوازسے فرماتے تھے ۔ 
(مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ، باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ وبیان صفتہ، ص۲۹۹، الحدیث: ۱۳۹(۵۹۴))
	حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں :بلند آواز سے ذکر کرنا جبکہ لوگ فرض نماز سے فارغ ہو جاتے یہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے عہد مبارک میں رائج تھا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :جب میں اس (بلند آواز سے ذکر کرنے ) کو سنتا تو اسی سے لوگوں کے (نماز سے) فارغ ہونے کو جان لیتا تھا۔
(بخاری، کتاب الاذان، باب الذکر بعد الصلاۃ، ۱/۲۹۳، الحدیث: ۸۴۱، مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ، باب  الذکر بعد الصلاۃ، ص۲۹۹، الحدیث: ۱۲۲(۵۸۳)) 
	 البتہ یہ یاد رہے کہ ذکر کرتے وقت اتنی آواز سے ذکر کیا جائے کہ کسی نمازی یا سونے والے کو تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔ 
(2)…ذکر میں تسبیح، تحمید تہلیل ،تکبیر، ثنائ، دعا سب داخل ہیں۔
{ کِتٰبًا مَّوْقُوۡتًا: مقررہ وقت پر فرض ہے۔}نماز کے اوقات مقرر ہیں لہٰذا لازم ہے کہ ان اوقات کی رعایت کی جائے۔
سفر میں دو نمازوں کو جمع کرنے کا شرعی حکم:
	اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سفر میں دو نمازیں جمع نہیں ہو سکتیں۔ احادیث میں بھی سفر کے دوران دو نمازوں کو جمع کرنے کی نفی کی گئی ہے ،چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں ’’میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے کبھی کوئی نماز ا س کے غیر وقت میں پڑھی ہو مگر دو نمازیں کہ ایک ان میں سے