پڑھ لیں اور جن کی دو باقی ہیں وہ دو پڑھ لیں اور دونوں جماعتیں ہروقت اسلحہ ساتھ رکھیں یعنی نماز میں بھی مُسلّح رہیں۔ معلوم ہوا کہ نماز کی جماعت ایسی اَہم ہے کہ ایسی سخت جنگ کی حالت میں بھی جماعت کا طریقہ سکھایا گیا ۔افسوس ان پر جو بلاوجہ جماعت چھوڑ دیتے ہیں حالانکہ اس میں ستائیس گنا زیادہ ثواب ہے۔
{ وَدَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا: اور کافرچاہتے ہیں۔} ارشاد فرمایا کہ تمہیں حفاظت کا سامان اور ہتھیار ساتھ رکھنے کا حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ کافریہ چاہتے ہیں کہ اگرتم اپنے ہتھیاروں اور اپنے سامان سے غافل ہو جاؤ تو وہ ایک ہی دفعہ تم پرحملہ کردیں اوراگر ہتھیار تمہارے پاس ہوں گے تو دشمن تم پر اچانک حملہ کرنے کی جرأت نہ کرے گا۔ آیت کے اس حصے کے بارے میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ غزوۂ ذاتُ الرّقاع سے جب فارغ ہوئے اور دشمن کے بہت آدمیوں کو گرفتار کیا اور اموالِ غنیمت ہاتھ آئے اور کوئی دشمن مقابلے میں باقی نہ رہا تو حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ قضائے حاجت کے لیے جنگل میں تنہا تشریف لے گئے ، دشمن کی جماعت میں سے غورث بن حارث یہ خبر پا کر تلوار لیے ہوئے چھپ چھپ کرپہاڑ سے اترا اور اچانک تاجدارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے پاس پہنچا اور تلوار کھینچ کر کہنے لگا یامحمد! (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ) اب تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟ پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰیعَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ ۔اور ساتھ ہی حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے دعا فرمائی۔ جب اُس نے سرکارِ دو عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ پر تلوار چلانے کا ارادہ کیا تواوندھے منہ گر پڑا اور تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی۔ تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے وہ تلوار لے کر فرمایا کہ تجھے مجھ سے کوئی بچائے گا؟ کہنے لگا، میرا بچانے والا کوئی نہیں ہے۔ رحمت ِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’ اَشْھَدُاَنْ لَّآِالٰـہَ اِلَّااللہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ‘‘ پڑھ تو تیری تلوار تجھے دے دوں گا، اس نے اس سے انکار کیا اور کہا کہ میں اس کی شہادت دیتا ہوں کہ میں کبھی آپ سے نہ لڑوں گا اور زندگی بھر آپ کے کسی دشمن کی مدد نہ کروں گا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے اس کی تلوار اس کو دے دی کہنے لگا، یا محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ) آپ مجھ سے بہت بہتر ہیں ؟نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے فرمایا، ہاں !ہمارے لائق یہی ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ہتھیار اور بچاؤ کا سامان ساتھ رکھنے کا حکم دیا گیا۔
(ابو سعود، النساء، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ۱/۵۷۹)
{ اِنۡ کَانَ بِکُمْ اَذًی: اگر تمہیں کوئی تکلیف ہو۔} حکم تھا کہ اپنی حفاظت کا سامان ہر وقت ساتھ رکھولیکن حضرت عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ زخمی تھے اور اس وقت ہتھیار رکھنا ان کے لیے بہت تکلیف دہ تھا، ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور حالتِ عذر میں ہتھیار کھول رکھنے کی اجازت دی گئی۔ (قرطبی، النساء، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ۳/۲۵۶، الجزء الخامس)