اپنے ہتھیار لیے رہیں کافروں کی تمنا ہے کہ کہیں تم اپنے ہتھیاروں اور اپنے اسباب سے غافل ہو جاؤ تو ایک دفعہ تم پر جھک پڑیں اور تم پر مضائقہ نہیں اگر تمہیں مینھ کے سبب تکلیف ہو یا بیمار ہو کہ اپنے ہتھیار کھول رکھو اور اپنی پناہ لیے رہو بیشک اللہ نے کافروں کے لئے خواری کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اے حبیب! جب تم ان میں تشریف فرما ہو پھر نماز میں ان کی امامت کرو تو چاہئے کہ ان میں ایک جماعت تمہارے ساتھ ہو اور وہ اپنے ہتھیار لیے رہیں پھر جب وہ سجدہ کرلیں تو ہٹ کر تم سے پیچھے ہوجائیں اور اب دوسری جماعت آئے جو اس وقت تک نماز میں شریک نہ تھی اب وہ تمہارے ساتھ نماز پڑھیں اور (انہیں بھی) چاہئے کہ اپنی حفاظت کا سامان اور اپنے ہتھیار لیے رہیں۔ کافر چاہتے ہیں کہ اگرتم اپنے ہتھیاروں اور اپنے سامان سے غافل ہو جاؤ تو ایک ہی دفعہ تم پرحملہ کردیں اور اگر تمہیں بارش کے سبب تکلیف ہو یا بیمار ہو توتم پرکوئی مضائقہ نہیں کہ اپنے ہتھیار کھول رکھو اور اپنی حفاظت کا سامان لئے رہو۔ بیشک اللہ نے کافروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
{ وَ اِذَا کُنۡتَ فِیۡہِمْ: اور جب تم ان میں ہو۔} اس آیت میں نمازِ خوف کی جماعت کا طریقہ بیان کیا گیا ہے ۔ اس کا شانِ نزول یہ ہے کہ غزوۂ ذاتُ الرِّقاع میں جب رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کو مشرکین نے دیکھا کہ آپ نے تمام صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے ساتھ نمازِ ظہر باجماعت ادا فرمائی تو انہیں افسوس ہوا کہ انہوں نے اس وقت میں کیوں نہ حملہ کیا اور آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ کیا ہی اچھا موقع تھا۔ ان میں بعضوں نے کہا کہ اس کے بعد ایک اور نماز ہے جو مسلمانوں کو اپنے ماں باپ سے زیادہ پیاری ہے یعنی نمازِ عصر، لہٰذا جب مسلمان اس نماز کے لیے کھڑے ہوں تو پوری قوت سے حملہ کرکے انہیں قتل کردو۔ اس وقت حضرت جبریلِ امین عَلَیْہِ السَّلَام نازل ہوئے اور انہوں نے حضور سیدُ المرسلینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ سے عرض کیا :یا رسولَ اللہ ! یہ نماز ِخوف ہے یعنی اب یوں نماز پڑھیں۔
(خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ۱/۴۲۳)
آیت میں بیان کیا گیانماز ِ خوف کا طریقہ:
اس آیت میں نمازِ خوف کا طریقہ یہ بیان کیا گیا کہ حاضرین کو دو جماعتوں میں تقسیم کردیا جائے ،ان میں سے ایک آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے ساتھ رہے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ انہیں نماز پڑھائیں اور ایک جماعت دشمن کے مقابلہ میں کھڑی رہے۔ پہلی جماعت ایک رکعت پڑھ کر اور مغرب میں دو رکعتیں پڑھ کر دشمن کے مقابل چلی جائے اور دوسری جماعت آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے پیچھے آجائے پھر بعد میں وہ اپنی ایک ایک بقیہ رکعت