رفتار سے طے کی جاتی ہو اور اس کی مقداریں خشکی اور دریا اور پہاڑوں میں مختلف ہوجاتی ہیں۔ ہمارے زمینی، میدانی سفر کے اعتبار سے فی زمانہ اس کی مسافت بانوے کلومیٹر بنتی ہے ۔
(4)… قصر صرف فرضوں میں ہے، سنتوں میں نہیں اور سفر میں سنتیں پڑھنی چاہئیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے حضر کی نماز اور سفر کی نماز کو فرض فرمایا تو ہم حضر میں فرض نماز سے پہلے بھی نماز پڑھا کرتے تھے اور بعد میں بھی اور سفر میں فرض نماز سے پہلے بھی نماز پڑھا کرتے تھے اور بعد میں بھی۔ (ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنّۃ فیہا، باب التطوع فی السفر، ۱/۵۶۱، الحدیث: ۱۰۷۲)
نمازِ قصر کے بارے میں مزید مسائل جاننے کے بہار شریعت حصہ4 سے ’’نماز مسافر کا بیان‘‘مطالعہ فرمائیں۔
وَ اِذَا کُنۡتَ فِیۡہِمْ فَاَقَمْتَ لَہُمُ الصَّلٰوۃَ فَلْتَقُمْ طَآئِفَۃٌ مِّنْہُمۡ مَّعَکَ وَلْیَاۡخُذُوۡۤا اَسْلِحَتَہُمْ ۟ فَاِذَا سَجَدُوۡا فَلْیَکُوۡنُوۡا مِنۡ وَّرَآئِکُمْ ۪ وَلْتَاۡتِ طَآئِفَۃٌ اُخْرٰی لَمْ یُصَلُّوۡا فَلْیُصَلُّوۡا مَعَکَ وَلْیَاۡخُذُوۡا حِذْرَہُمْ وَاَسْلِحَتَہُمْ ۚ وَدَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوْ تَغْفُلُوۡنَ عَنْ اَسْلِحَتِکُمْ وَاَمْتِعَتِکُمْ فَیَمِیۡلُوۡنَ عَلَیۡکُمْ مَّیۡلَۃً وّٰحِدَۃً ؕ وَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمْ اِنۡ کَانَ بِکُمْ اَذًی مِّنۡ مَّطَرٍ اَوْکُنۡتُمۡ مَّرْضٰۤی اَنۡ تَضَعُوۡۤا اَسْلِحَتَکُمْ ۚ وَخُذُوۡا حِذْرَکُمْ ؕ اِنَّ اللہَ اَعَدَّ لِلْکٰفِرِیۡنَ عَذَابًا مُّہِیۡنًا ﴿۱۰۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اے محبوب جب تم ان میں تشریف فرما ہو پھر نماز میں ان کی امامت کرو تو چاہئے کہ ان میں ایک جماعت تمہارے ساتھ ہواور وہ اپنے ہتھیار لیے رہیں پھر جب وہ سجدہ کرلیں تو ہٹ کر تم سے پیچھے ہوجائیں اور اب دوسری جماعت آئے جو اس وقت تک نماز میں شریک نہ تھی اب وہ تمہارے مقتدی ہوں اور چاہئے کہ اپنی پناہ اور