مِنَ الصَّلٰوۃِ ٭ۖ اِنْ خِفْتُمْ اَنۡ یَّفْتِنَکُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ اِنَّ الْکٰفِرِیۡنَ کَانُوۡا لَکُمْ عَدُوًّا مُّبِیۡنًا﴿۱۰۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر گناہ نہیں کہ بعض نمازیں قصر سے پڑھو اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں ایذا دیں گے بے شک کفار تمہارے کھلے دشمن ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر گناہ نہیں کہ بعض نمازیں قصر سے پڑھو اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں ایذا دیں گے بیشک کفار تمہارے کھلے دشمن ہیں۔
{ وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الۡاَرْضِ:اور جب تم زمین میں سفر کرو ۔} اس آیت میں نماز کو قَصر کرنے کا مسئلہ بیان کیا گیاہے یعنی سفر کی حالت میں ظہر ، عصر اور عشاء میں چار فرضوں کی بجائے دو پڑھیں گے۔
نمازِ قصر کے بارے میں 4مسائل:
یہاں آیت کی مناسبت سے نما زِ قصر سے متعلق 4شرعی مسائل ملاحظہ ہوں
(1)…اس سے یہ مسئلہ معلوم ہوتا ہے کہ سفر میں چار رکعت والی نماز کو پورا پڑھنا جائز نہیں ہے ۔
(2)… کافروں کا خوف قصر کے لیے شرط نہیں ، چنانچہ حضرت یعلیٰ بن امیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت عمر رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے کہا کہ ہم تو امن میں ہیں ( پھر ہم کیوں قصر کرتے ہیں ؟ ) آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا، اس کا مجھے بھی تعجب ہوا تھا تو میں نے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ سے دریافت کیا ۔ اس پر حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے لئے یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے صدقہ ہے تم اس کا صدقہ قبول کرو۔
(مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا، باب صلاۃ المسافرین وقصرہا، ص۳۴۷، الحدیث: ۴(۶۸۶))
آیت کے نازل ہونے کے وقت چونکہ سفر اندیشہ سے خالی نہ ہوتے تھے اس لیے آیت میں اس کا ذکر ہوا ہے ورنہ خوف اور اندیشہ کا ہونا کوئی شرط نہیں ہے، نیز صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا بھی یہی عمل تھا کہ امن کے سفروں میں بھی قصر فرماتے جیسا کہ اوپر کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے اور اس کے علاوہ اور احادیث سے بھی یہ ثابت ہے ۔
(3)…جس سفر میں قصر کیا جاتا ہے اس کی کم سے کم مدت تین رات دن کی مسافت ہے جو اونٹ یا پیدل کی متوسط