Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
286 - 476
اور ان کی عظمت و شان کو بہترین انداز میں بیان فرمایا کہ جو راہِ خدا میں ہجرت کرے پھر اسے منزل تک پہنچنے سے پہلے موت آجائے تو اس کا اجر اللہ کریم کے وعدے اور اس کے فضل و کرم سے اس کے ذمۂ کرم پر ہے ، یوں نہیں کہ اس پر بطورِ معاوضہ واجب ہے کیونکہ اس طور پر کوئی چیزاللہ عَزَّوَجَلَّ  پر واجب نہیں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّکی شان اس سے بلند ہے۔ 
نیکی کا ارادہ کر کے نیکی کرنے سے عاجز ہوجانے والا اس نیکی کا ثواب پائے گا:
	اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو کوئی نیکی کا ارادہ کرے اور اس کو پورا کرنے سے عاجز ہوجائے وہ اس نیکی کا ثواب پائے گا۔ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جس شخص نے نیکی کا ارادہ کیا اور نیکی نہیں کی تو ا س کی ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور جس نے نیکی کا ارادہ کیا اور نیکی کر لی تو اس کے لئے دس سے لے کر سات سو گنا تک نیکیا ں لکھ دی جاتی ہیں اور جس نے گناہ کا ارادہ کیا اور اس پر عمل نہیں کیا تو اس کا گناہ نہیں لکھا جاتا اور اگر وہ گناہ کر لے تو ایک گناہ لکھ دیاجاتا ہے۔
(مسلم، کتاب الایمان، باب اذا ہمّ العبد بحسنۃ کتبت۔۔۔ الخ، ص۷۹، الحدیث: ۲۰۶(۱۳۰))
کن کاموں کے لئے وطن چھوڑنا ہجر ت میں داخل ہے:
	 صدرُالاَفاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی  رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے فرمان کا خلاصہ ہے کہ طلب ِ ِعلم، جہاد، حج و زیارت ِ مدینہ، نیکی کے کام، زہد و قناعت اور رزقِ حلال کی طلب کے لیے ترک ِوطن کرنا خدا اور رسول کی طرف ہجرت ہے، اس راہ میں مرجانے والا اجر پائے گا۔ حضرت عبداللہ بن عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے،  تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: جسے علم حاصل کرتے ہوئے موت آ گئی وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کے اور انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے درمیان صرف درجۂ نبوَّت کا فرق ہو گا۔
(معجم الاوسط، باب الیائ، من اسمہ یعقوب، ۶/۴۷۵، الحدیث: ۹۴۵۴) 
	حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ دو عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: جو حج کے لئے نکلا اور مر گیا، قیامت تک اس کے لئے حج کرنے والے کاثواب لکھا جائے گا اور جو عمرہ کے لئے نکلا اور مر گیا، اس کے لئے قیامت تک عمرہ کرنے والے کا ثواب لکھا جائے گا۔  (مسند ابو یعلی، مسند ابی ہریرۃ، ۵/۴۴۱، الحدیث: ۶۳۲۷)
وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الۡاَرْضِ فَلَیۡسَ عَلَیۡکُمْ جُنَاحٌ اَنۡ تَقْصُرُوۡا