Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
285 - 476
بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ مجبور مرد اور عورتیں اور بچے جو نہ ہجرت کرنے کی طاقت رکھتے ہوں ، نہ ان کے پاس اخراجات ہوں اور نہ ہی وہ ہجرت گاہ کا راستہ جانتے ہوں تو ایسے عاجز اور مجبور لوگ ہجرت نہ کرنے پر قابلِ گرفت نہیں ، عنقریب اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے درگزر فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ معاف فرمانے والا، بخشنے والا ہے۔ 
(جلالین، النساء، تحت الآیۃ: ۹۸، ص ۸۵، روح البیان، النساء، تحت الآیۃ: ۹۷، ۲/۲۶۹، ملتقطاً)
وَمَنۡ یُّہَاجِرْ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ یَجِدْ فِی الۡاَرْضِ مُرٰغَمًا کَثِیۡرًا وَّسَعَۃً ؕ وَمَنۡ یَّخْرُجْ مِنۡۢ بَیۡتِہٖ مُہَاجِرًا اِلَی اللہِ وَرَسُوۡلِہٖ ثُمَّ یُدْرِکْہُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُہٗ عَلَی اللہِ ؕ وَکَانَ اللہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۱۰۰﴾٪ 
ترجمۂکنزالایمان: اور جو اللہ کی راہ میں گھر بار چھوڑ کر نکلے گا وہ زمین میں بہت جگہ اور گنجائش پائے گا اور جو اپنے گھر سے نکلا اللہ و رسول کی طرف ہجرت کرتا پھر اسے موت نے آلیا تو اس کا ثواب اللہ کے ذمہ پر ہوگیا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جو اللہ کی راہ میں ہجرت کرے تو وہ زمین میں بہت جگہ اور گنجائش پائے گا اور جو اپنے گھر سے اللہ و رسول کی طرف ہجرت کرتے ہوا نکلا پھر اسے موت نے آلیا تو اس کا ثواب اللہ کے ذمہ پر ہوگیا اور اللہ بخشنے والا، مہربان ہے۔ 
{ وَمَنۡ یُّہَاجِرْ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ: اور جو اللہ کی راہ میں ہجرت کرے۔} شانِ نزول : اس سے پہلی آیت جب نازل ہوئی تو حضرت جُنْدَع بن ضَمرہ اَللّیْثِیْ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اِسے سنا، یہ بہت بوڑھے شخص تھے ،کہنے لگے کہ میں مُستَثنیٰ لوگوں میں تو ہوں نہیں کیونکہ میرے پاس اتنا مال ہے کہ جس سے میں مدینہ طیبہ ہجرت کرکے پہنچ سکتا ہوں۔ خدا کی قسم ، اب میں مکہ مکرمہ میں ایک رات نہ ٹھہروں گا، مجھے لے چلو چنانچہ ان کو چار پائی پر لے کرچلے لیکن مکہ مکرمہ کے بالکل قریب ہی مقامِ تَنعیم میں آکر ان کا انتقال ہوگیا۔ آخری وقت انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا اور کہا، یارب! عَزَّوَجَلَّ، یہ تیرا ہے اور یہ تیرے رسول کاہے ،میں اُس چیز پر بیعت کرتا ہوں جس پر تیرے رسول نے بیعت لی ۔ سُبْحَانَ اللہ، یہ خبر پا کر صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے فرمایا، کاش وہ مدینہ پہنچتے توان کا اجر کتنا بڑا ہوتا اور مشرک ہنسنے لگے اور کہنے لگے کہ جس مطلب کے لئے نکلے تھے وہ نہ ملا۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔  (بغوی، النساء، تحت الآیۃ: ۱۰۰، ۱/۳۷۵)