عورتوں بچوں اور ضعیفوں کی تباہی ہوگی اور ہجرتِ خاصہ میں تین صورتیں ہیں ،
(1)… اگر کوئی شخص کسی خاص وجہ سے کسی خاص مقام میں اپنے دینی فرائض بجانہ لاسکے اور دوسری جگہ انہیں بجا لانا ممکن ہوتو اگر یہ خاص اسی مکان میں ہے تو اس پر فرض ہے کہ یہ مکان چھوڑ کر دوسرے مکان میں چلاجائے، اور اگر اس محلہ میں معذور ہوتو دوسرے محلہ میں چلا جائے اور اس شہر میں مجبور ہوتو دوسرے شہر میں چلا جائے۔
(2)… یہاں اپنے مذہبی فرائض بجالانے سے عاجز نہیں اور اس کے ضعیف ماں یا باپ یا بیوی یا بچے جن کا نفقہ اس پر فرض ہے وہ نہ جاسکیں گے یا نہ جائیں گے اور اس کے چلے جانے سے وہ بے وسیلہ رہ جائیں گے تو اس کو دارُالاسلام سے ہجرت کرنا حرام ہے،
حدیث میں ہے:کسی آدمی کے گنہگار ہونے کیلئے اتنا کافی ہے کہ وہ اسے ضائع کردے جس کا نفقہ اس کے ذمے تھا۔‘‘
یا وہ عالم جس سے بڑھ کر اس شہر میں عالم نہ ہو اسے بھی وہاں سے ہجرت کرنا حرام ہے۔
(3)… نہ فرائض سے عاجز ہے نہ اس کی یہاں حاجت ہے، اسے اختیار ہے کہ یہاں رہے یا چلا جائے ، جو اس کی مصلحت سے ہو وہ کر سکتا ہے ، یہ تفصیل دارُالاسلام میں ہے۔
(فتاوی رضویہ، ۱۴/۱۳۱- ۱۳۲، ملخصاً)
اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیۡنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ وَالْوِلْدٰنِ لَا یَسْتَطِیۡعُوۡنَ حِیۡلَۃً وَّلَا یَہۡتَدُوۡنَ سَبِیۡلًا ﴿ۙ۹۸﴾ فَاُولٰٓئِکَ عَسَی اللہُ اَنۡ یَّعْفُوَ عَنْہُمْ ؕ وَکَانَ اللہُ عَفُوًّا غَفُوۡرًا ﴿۹۹﴾
ترجمۂکنزالایمان:مگر وہ جو دبا لئے گئے مرد اور عورتیں اور بچے جنہیں نہ کوئی تدبیر بن پڑے نہ راستہ جانیں تو قریب ہے کہ اللہ ایسوں کو معاف فرمائے اور اللہ معاف فرمانے والا بخشنے والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:مگر وہ مجبور مرد اور عورتیں اور بچے جو نہ تو کوئی تدبیر کرنے کی طاقت رکھتے ہوں اور نہ راستہ جانتے ہوں۔ توعنقریب اللہ ان لوگوں سے درگزر فرمائے گا اور اللہ معاف فرمانے والا، بخشنے والا ہے۔
{ اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیۡنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ وَالْوِلْدٰنِ:مگر وہ مجبور مرد اور عورتیں اور بچے۔}اس آیت اور ا س کے