اتفاق کا حکم اور اختلاف کے اسباب پیدا کرنے کی ممانعت:
اس آیت میں مسلمانوں کو آپس میں اتفاق و اجتماع کا حکم دیا گیا اور اختلاف اور اس کے اسباب پیدا کرنے کی ممانعت فرمائی گئی ہے۔ احادیث میں بھی اس کی بہت تاکیدیں وارد ہیں اور مسلمانوں کی جماعت سے جدا ہونے کی سختی سے ممانعت فرمائی گئی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، سرورِ کائناتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ میری امت کو گمراہی پر جمع نہ کرے گا اور اللہ تعالیٰ کا دست ِرحمت جماعت پر ہے اور جو جماعت سے جدا ہوا وہ دوزخ میں گیا۔ (ترمذی، کتاب الفتن، باب ما جاء فی لزوم الجماعۃ، ۴/۶۸، الحدیث: ۲۱۷۳)
حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ میری امت گمراہی پر کبھی جمع نہ ہو گی،جب تم اختلاف دیکھو تو بڑی جماعت کو لازم پکڑ لو۔
(ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب السواد الاعظم، ۴/۳۲۷، الحدیث: ۳۹۵۰)
آج کل جو فرقہ پیدا ہوتا ہے وہ اس حکم کی مخالفت کرکے ہی پیدا ہوتا ہے اور مسلمانوں میں تفرقہ اندازی کے جرم کا مرتکب ہوتا ہے اور حدیث کے مطابق وہ شیطان کا شکار ہے ۔
(معجم الکبیر، باب ما جاء فی لزوم الجماعۃ۔۔۔ الخ، ۱/۱۸۶، الحدیث: ۴۸۹)
اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے محفوظ فرمائے۔ خیال رہے کہ نا اتفاقی اور پھوٹ کا مجرم وہ شخص ہوگا جو مسلمانوں کا راستہ چھوڑ کر نئی راہ نکالے، جو اسلام کی راہ پر قائم ہے وہ مجرم نہیں۔
یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوۡہٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوۡہٌۚ فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اسْوَدَّتْ وُجُوۡہُہُمْ۟ اَکَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیۡمٰنِکُمْ فَذُوۡقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوۡنَ﴿۱۰۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: جس دن کچھ منہ اونجالے(چمکتے) ہوں گے اور کچھ منہ کالے تو وہ جن کے منہ کالے ہوئے کیا تم ایمان لاکر کافر ہوئے تو اب عذاب چکھو اپنے کفر کا بدلہ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:جس دن کئی چہرے روشن ہوں گے اور کئی چہرے سیاہ ہوں گے تو وہ لوگ جن کے چہرے سیاہ ہوں گے (ان سے کہا جائے گا کہ) کیا تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوئے تھے؟ تو اب اپنے کفر کے بدلے میں عذاب کا مزہ چکھو۔