{ یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوۡہٌ: جس دن کچھ چہرے روشن ہوں گے۔} یہاں آیات میں قیامت کے دن کا منظر بیان ہوا ہے کہ قیامت کے دن کچھ چہرے روشن ہوں گے جو یقینا اہلِ ایمان کے ہوں گے اورکچھ چہرے سیاہ ہوں گے جو یقینا کفار کے ہوں گے اور کافروں سے کہا جائے گا کہ ’’کیا تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوئے تھے؟ تو اب اپنے کفر کے بدلے میں عذاب کا مزہ چکھو۔ یہاں فرمایا کہ’’ ایمان کے بعد کافر ہوئے تھے ‘‘ اس سے اگر تمام کفار کو خطاب ہے تواس صورت میں ایمان سے روزِ میثاق کا ایمان مراد ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اُن سے فرمایا تھا ’’کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ‘‘ توسب نے ’’ بَلٰی‘‘ یعنی ’’کیوں نہیں ‘‘کہا تھا اور ایمان لائے تھے ۔اب جو دنیا میں کافر ہوئے تو اُن سے فرمایا جاتا ہے کہ’’ روزِ میثاق ایمان لانے کے بعد تم کافر ہوگئے۔ امام حسن بصری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا قول ہے کہ اس سے منافقین مراد ہیں جنہوں نے زبان سے اظہار ِایمان کیا تھا اور ان کے دل منکر تھے۔ حضرت عِکْرَمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ اس سے مراد اہلِ کتاب ہیں جورسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی بعثت سے پہلے تو حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ پر ایمان لائے اور ظہور کے بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کا انکا ر کرکے کافر ہوگئے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس کے مخاطب مُرتَدّین ہیں جو اسلام لا کر پھر گئے اور کافر ہو گئے۔ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۰۶، ۱/۲۸۶)
ان سے کہا جائے گا کہ اپنے کفر کے بدلے اب عذاب کا مزہ چکھو۔
وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ ابْیَضَّتْ وُجُوۡہُہُمْ فَفِیۡ رَحْمَۃِ اللہِؕ ہُمْ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ﴿۱۰۷﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور وہ جن کے منہ اونجالے (روشن)ہوئے وہ اللہ کی رحمت میں ہیں وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہ لوگ جن کے چہرے سفید ہوں گے وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے، وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔
{ فَفِیۡ رَحْمَۃِ اللہِ: تواللہ کی رحمت میں ہوں گے۔} یعنی اللہ تعالیٰ کے اطاعت گزار مومن اللہ تعالیٰ کی رحمت کی جگہ جنت میں ہوں گے اور وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے ۔ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۰۶، ۱/۲۸۷)
اللہ تعالیٰ اپنے اطاعت گزار اہلِ ایمان کے بارے میں ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے: