Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
27 - 476
 (لہٰذا میں تختہ توڑ کر یہیں سے پانی لے لوں گا اور تم لوگوں کو تکلیف نہ دوں گا) پس اس صورت میں اگر اوپر والوں نے اس کا ہاتھ پکڑلیا اور تختہ کاٹنے سے روک دیا تو اسے بھی نجات دیں گے اور خودکو بھی بچا لیں گے اور اگر چھوڑ دیا تو اسے بھی ہلاک کریں گے اور خود بھی ہلاک ہوں گے۔ (بخاری، کتاب الشہادات، باب القرعۃ فی المشکلات، ۲/۲۰۸، الحدیث: ۲۶۸۶) (1)
دیکھے ہیں یہ دن اپنی ہی غفلت کی بدولت			سچ ہے کہ برے کام کا انجام برا ہے
جو کچھ بھی ہے سب اپنے ہی ہاتھوں کے ہیں کرتوت		شکوہ ہے زمانے کا نہ قسمت سے گلا ہے
فریاد ہے اے کشتیِ امت کے نگہباں 			بیڑا یہ تباہی کے قریب آن لگا ہے
وَلَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ تَفَرَّقُوۡا وَاخْتَلَفُوۡا مِنۡۢ بَعْدِ مَا جَآءَ ہُمُ الْبَیِّنٰتُؕ وَ اُولٰٓئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ﴿۱۰۵﴾ۙ 
ترجمۂکنزالایمان: اور ان جیسے نہ ہونا جو آپس میں پھٹ گئے اور ان میں پھوٹ پڑگئی بعد اس کے کہ روشن نشانیاں انہیں آچکی تھیں اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو آپس میں مُتَفَرّق ہو گئے اورانہوں نے اپنے پاس روشن نشانیاں آجانے کے بعد (بھی) آپس میں اختلاف کیا اور اُن کے لیے بڑا عذاب ہے۔
{ وَلَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ تَفَرَّقُوۡا: اور ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو آپس میں متفرق ہو گئے۔}  ارشاد فرمایا کہ آپس میں تَفَرُّقَہ بازی اور اختلافات میں نہ پڑجانا جیسا کہ یہود ونصاریٰ آپس میں اختلافات میں پڑگئے اور ان میں ایک دوسرے کے ساتھ عناد اور دشمنی راسِخ ہوگئی یا آیت کا یہ معنیٰ ہے کہ آپس میں اُس طرح اختلاف و اِفتراق میں نہ پڑجانا جیسے تم زمانہ اسلام سے پہلے جاہلیت کے وقت میں متفرق تھے اورتمہارے درمیان بغض و عِناد تھا۔ 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1… تبلیغ دین کی ضرورت و اہمیت اور اس متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے امیر اہلسنت دامت برکاتھم العالیہ کی تصنیف "نیکی کی دعوت" (مطبوعہ مکتبۃ المدینۃ) کا مطالعہ فرمائیں۔