Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
274 - 476
 کے گھر والوں کے حوالے دیت کی جائے اور ایک مسلمان غلام یا لونڈی کو آزاد کیا جائے پھر جسے (غلام) نہ ملے تو دومہینے کے مسلسل روزے ( لازم ہیں۔ یہ ) اللہ کی بارگاہ میں اس کی توبہ ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے ۔
 { وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنۡ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا: اور کسی مسلمان کیلئے دوسرے مسلمان کو قتل کرنا جائز نہیں۔}یہ آیت ِ مبارکہ عیاش بن ربیعہ مخزومی کے بارے میں نازل ہوئی ۔ ان کا واقعہ یوں ہے کہ وہ ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں مسلمان ہوگئے اور گھر والوں کے خوف سے مدینہ طیبہ جا کر پناہ گزیں ہوگئے۔ ان کی ماں کو اس سے بہت بے قراری ہوئی اور اس نے حارث اور ابوجہل اپنے دونوں بیٹوں سے جو عیاش کے سوتیلے بھائی تھے یہ کہا کہ خدا کی قسم نہ میں سایہ میں بیٹھوں گی اور نہ کھانا چکھوں گی اور نہ پانی پیوں گی جب تک تم عیاش کو میرے پاس نہ لے کر آؤ۔ وہ دونوں حارث بن زید کو ساتھ لے کر تلاش کے لیے نکلے اور مدینہ طیبہ پہنچ کر عیاش کو پالیا اور ان کوماں کے جزع فزع کرنے، بے قراری اور کھانا پینا چھوڑنے کی خبر سنائی اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نام پر یہ عہد کیا کہ ہم دین کے متعلق تجھ سے کچھ نہ کہیں گے، بس تم مکہ مکرمہ چلو۔ اس طرح وہ عیاش کو مدینہ سے نکال لائے اور مدینہ سے باہر آکر اس کو باندھا اور ہر ایک نے سو سو کوڑے مارے پھر ماں کے پاس لائے تو ماں نے کہا میں تیری مشکیں نہ کھولوں گی جب تک تو اپنا دین ترک نہ کرے گا، پھر عیاش کو دھوپ میں بندھا ہوا ڈال دیا اور ان مصیبتوں میں مبتلا ہو کر عیاش نے ان کا کہا مان لیا اور اپنا دین ترک کردیا۔ اس پر حارث بن زید نے عیاش کو ملامت کی اور کہا تواسلام پر تھا، اگر یہ حق تھا تو تو نے حق کو چھوڑ دیا اور اگر باطل تھا توتو باطل دین پر رہا۔ یہ بات عیاش کو بڑی ناگوار گزری اور عیاش نے حارث سے کہا کہ میں تجھے اکیلا پاؤں گا تو خدا کی قسم ،ضرور تمہیں قتل کردوں گا اس کے بعد عیاش اسلام لے آئے اور انہوں نے مدینہ طیبہ ہجرت کرلی اور ان کے بعد حارث بھی اسلام لے آئے اور وہ بھی ہجرت کرکے رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں پہنچ گئے لیکن اس روز عیاش موجود نہ تھے اور نہ انہیں حارث کے اسلام کی اطلاع ہوئی۔ قباء شریف کے قریب عیاش نے حارث کو دیکھ لیا اور قتل کردیا تو لوگوں نے کہا، اے عیاش! تم نے بہت برا کیا، حارث اسلام لاچکے تھے ۔اس پر عیاش کو بہت افسوس ہوا اور انہوں نے رحمت ِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی خدمت ِ اقدس میں حاضر ہو کر واقعہ عرض کیا اور کہا کہ مجھے قتل کے وقت تک ان کے اسلام کی خبر ہی نہ ہوئی اس پر یہ آیۂ کریمہ نازل ہوئی اور کفارے کی صورت بیان کی گئی۔		   (بغوی، النساء، تحت الآیۃ: ۹۲، ۱/۳۶۸)
{ وَمَنۡ قَتَلَ: اور جو قتل کرے۔} یہاں آیت میں قتل کی چار صورتوں کا بیان ہے اور پھر تین صورتوں میں کفارے کا بیان ہے۔
	 پہلی صورت یہ کہ مسلمان کا کسی دوسرے مسلمان کو ناحق قتل کرنا حرام ہے۔
	 دوسری صورت یہ کہ کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو غلطی سے قتل کردے جیسے شکار کو مار رہا ہومگر گولی مسلمان