کو لگ جائے یا کسی کو حربی کافر سمجھ کر مارا لیکن قتل کے بعد معلوم ہوا کہ مقتول تو مسلمان ہے۔ اس صورت میں قاتل پر ایک غلام یا لونڈی کو آزاد کرنا لازم ہے اور اس کے ساتھ وہ دِیت بھی ادا کرے گا جومقتول کے وارثوں کو دی جائے گی اوروہ اسے میراث کی طرح تقسیم کرلیں۔دِیت مقتول کے ترکہ کے حکم میں ہے، اس سے مقتول کا قرضہ بھی ادا کیا جائے گا اور وصیت بھی پوری کی جائے گی۔ ہاں اگر مقتول کے وُرثاء دیت معاف کردیں تو وہ معاف ہوجائے گی۔
تیسری صورت یہ ہے کہ اگر وہ مقتول دشمن قوم سے ہو لیکن وہ مقتول بذات ِخود مسلمان ہو تو صرف ایک مسلمان غلام کا آزاد کرنا لازم ہے اور دیت وغیرہ کچھ لازم نہ ہوگی۔
چوتھی صورت یہ ہے کہ اگر مقتول ذِمّی ہو یا مسلمان حکومت کی اجازت سے مسلمان ملک میں آیا ہو جسے مُستامن کہتے ہیں تو اس کو قتل کرنے کی صورت میں اس کے گھر والوں کو دیت دی جائے گی اور ایک مسلمان غلام یا لونڈی کو آزاد کیا جائے گاالبتہ اگر غلام لونڈی نہ ملے جیسے ہمارے زمانے میں غلام لونڈی ہیں ہی نہیں تو پھر دومہینے کے مسلسل روزے رکھے جائیں گے۔ یہ یاد رہے کہ قتل خطا کے کفارہ میں کافر غلام آزاد نہ کیا جائے گا۔ باقی کفّارات میں حنفی مذہب میں ہر طرح کا غلام آزاد کر سکتے ہیں جیسے روزے کا یا ظہار کا کفار ہ ہو۔
وَمَنۡ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ خَالِدًا فِیۡہَا وَغَضِبَ اللہُ عَلَیۡہِ وَلَعَنَہٗ وَاَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیۡمًا ﴿۹۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جو کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کردے تو اس کا بدلہ جہنم ہے عرصہ دراز تک اس میں رہے گا اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
{ وَمَنۡ یَّقْتُلْ: اور جو قتل کرے۔} اس سے پہلی آیت میں غلطی سے کسی مسلمان کو قتل کر دینے کا حکم بیان کیا گیا اور اس آیت میں جان بوجھ کر کسی مسلمان کو قتل کرنے کی اُخروی وعید بیان کی گئی ہے۔ (تفسیر کبیر، النساء، تحت الآیۃ: ۹۳، ۴/۱۸۲)