Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
273 - 476
طرف نہ ہوجائیں اور تمہارے ساتھ صلح نہ کریں تو ان کے کفر اور غداری اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے سبب ہم نے تمہیں ان کے قتل کرنے کا کھلااختیار دیا ہے۔ 
وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنۡ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَأً ۚ وَمَنۡ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِیۡرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ وَّدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلٰۤی اَہۡلِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ یَّصَّدَّقُوۡا ؕ فَاِنۡ کَانَ مِنۡ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّکُمْ وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیۡرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ ؕ وَ اِنۡ کَانَ مِنۡ قَوْمٍۭ بـَیۡنَکُمْ وَبَیۡنَہُمْ مِّیۡثٰقٌ فَدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلٰۤی اَہۡلِہٖ وَتَحْرِیۡرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ ۚ فَمَنۡ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَہۡرَیۡنِ مُتَتَابِعَیۡنِ ۫ تَوْبَۃً مِّنَ اللہِ ؕ وَکَانَ اللہُ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿۹۲﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور مسلمانوں کو نہیں پہنچتا کہ مسلمان کا خون کرے مگر ہاتھ بہک کر اور جو کسی مسلمان کو نادانستہ قتل کرے تو اس پر ایک مملوک مسلمان کا آزاد کرنا ہے اور خوں بہا کہ مقتول کے لوگوں کو سپرد کی جائے مگر یہ کہ وہ معاف کردیں پھر اگر وہ اس قوم سے ہو جو تمہاری دشمن ہے اور خود مسلمان ہے، تو صرف ایک مملوک مسلمان کا آزاد کرنا اور اگر وہ اس قوم میں ہو کہ تم میں ان میں معاہدہ ہے تو اس کے لوگوں کو خوں بہا سپرد کی جائے اور ایک مسلمان مملوک آزاد کرنا تو جس کا ہاتھ نہ پہنچے وہ لگاتار دو مہینے کے روزے رکھے یہ اللہ کے یہاں اس کی توبہ ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ کسی مسلمان کو قتل کرے مگر یہ کہ غلطی سے ہوجائے اور جو کسی مسلمان کو غلطی سے قتل کردے تو ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنا اور دیت دینا لازم ہے جو مقتول کے گھروالوں کے حوالے کی جائے گی سوائے اس کے کہ وہ معاف کردیں پھر اگر وہ مقتول تمہاری دشمن قوم سے ہو اور وہ مقتول خود مسلمان ہو تو صرف ایک مسلمان غلام کا آزاد کرنا لازم ہے اور اگر وہ مقتول اس قوم میں سے ہو کہ تمہارے اور ان کے درمیان معاہدہ ہو تو اس