اور فرمایا کہ اے ایمان والو! تمہیں کیا ہوگیا کہ تم منافقوں کے بارے میں دو گروہ بن گئے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ارتداد اور مشرکوں کے ساتھ جاملنے کی وجہ سے ان کے دلوں کو الٹا دیا ہے، کیا تم یہ چاہتے ہو کہ جسے اللہ تعالیٰ نے گمراہ کردیا اسے ہدایت کی راہ دکھا دو! یہ محال ہے کیونکہ جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے تو تم اس کے لئے ہدایت کاکوئی راستہ نہ پاؤ گے۔
(روح البیان،النساء ، تحت الایۃ : ۸۸،۲/۲۵۶)
وَدُّوۡا لَوْ تَکْفُرُوۡنَ کَمَا کَفَرُوۡا فَتَکُوۡنُوۡنَ سَوَآءً فَلَا تَتَّخِذُوۡا مِنْہُمْ اَوْلِیَآءَ حَتّٰی یُہَاجِرُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ ؕ فَاِنۡ تَوَلَّوْا فَخُذُوۡہُمْ وَ اقْتُلُوۡہُمْ حَیۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡہُمْ ۪ وَلَا تَتَّخِذُوۡا مِنْہُمْ وَلِیًّا وَّلَا نَصِیۡرًا ﴿ۙ۸۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ کہیں تم بھی کافر ہوجاؤ جیسے وہ کافر ہوئے تو تم سب ایک سے ہو جاؤ توان میں کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ جب تک اللہ کی راہ میں گھر بار نہ چھوڑیں پھر اگر وہ منہ پھیریں تو انہیں پکڑو اور جہاں پاؤ قتل کرو اور ان میں کسی کو نہ دوست ٹھہراؤ نہ مددگار۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ جیسے وہ کافر ہوئے کاش کہ تم بھی ویسے ہی کافر ہوجاؤ پھرتم سب ایک جیسے ہو جاؤ۔ توتم ان میں سے کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ جب تک وہ اللہ کی راہ میں ہجرت نہ کریں پھر اگر وہ منہ پھیریں تو انہیں پکڑو اور جہاں پاؤ قتل کرو اور ان میں کسی کو نہ دوست بناؤ اور نہ ہی مددگار۔
{ وَدُّوۡا لَوْ تَکْفُرُوۡنَ کَمَا کَفَرُوۡا: وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ جیسے وہ کافر ہوئے کاش کہ تم بھی ویسے ہی کافر ہوجاؤ ۔} اس سے پہلی آیات میں منافقوں کی اپنی سرکشی کا بیان ہوا اور اس آیت میں ان کے کفر و سرکشی میں حد سے بڑھنے کا بیان ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے مسلمانو! جو منافق ایمان چھوڑ کر کفر و ارتداد کی طرف پلٹ گئے وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ جیسے وہ کافر ہوئے کاش کہ تم بھی ویسے ہی کافر ہوجاؤ پھرتم سب کفر میں ایک جیسے ہو جاؤ اور جب ان کا یہ حال ہے توتم ان میں سے