نہ کوئی ممکن اس کی قدرت سے باہر ہے نہ کسی کی قدرت ا س کی قدرت کے ہمسر، نہ اپنے لئے کسی عیب و نقص پر قادر ہونا اس کی قُدُّوسی شان کے لائق ہے۔
نوٹ:اس مسئلے پر تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے فتاویٰ رضویہ کی 15ویں جلد میں موجود اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے ان رسائل کا مطالعہ فرمائیں۔ (1)سُبْحٰنُ السُّبُّوْحْ عَنْ عَیْبِ کِذْبٍ مَقْبُوْحْ (جھوٹ جیسے بد ترین عیب سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پاک ہونے کا بیان )۔ (2) دَامَانِ بَاغِ سُبْحٰنِ السُّبُّوْحْ۔(رسالہ سُبْحٰنُ السُّبُّوح کے باغ کا دامن) (3)اَلْقَمْعُ الْمُبِینْ لِآمَالِ الْمُکَذِّبِینْ(اللہ تعالیٰ کے لئے جھوٹ ممکن ماننے والوں کے استدلال کا رد)۔
فَمَا لَکُمْ فِی الْمُنٰفِقِیۡنَ فِئَتَیۡنِ وَاللہُ اَرْکَسَہُمۡ بِمَا کَسَبُوۡا ؕ اَتُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ تَہۡدُوۡا مَنْ اَضَلَّ اللہُ ؕ وَمَنۡ یُّضْلِلِ اللہُ فَلَنۡ تَجِدَ لَہٗ سَبِیۡلًا ﴿۸۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو تمہیں کیا ہوا کہ منافقوں کے بارے میں دو فریق ہوگئے اور اللہ نے انہیں اوندھا کردیا ان کے کوتکوں کے سبب کیا یہ چاہتے ہو کہ اسے راہ دکھاؤ جسے اللہ نے گمراہ کیا اور جسے اللہ گمراہ کرے تو ہرگز تواس کے لیے کوئی راہ نہ پائے گا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو تمہیں کیا ہوا کہ منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہوگئے حالانکہ اللہ نے ان کے اعمال کے سبب ان (کے دلوں ) کو الٹا دیا ہے۔ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تم اسے راہ دکھاؤ جسے اللہ نے گمراہ کر دیا اور جسے اللہ گمراہ کردے تو ہرگز تو اس کے لئے (ہدایت کا) راستہ نہ پائے گا۔
{ فَمَا لَکُمْ فِی الْمُنٰفِقِیۡنَ فِئَتَیۡنِ: تو تمہیں کیا ہوا کہ منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہوگئے ؟ }اس آیت کاشانِ نزول یہ ہے کہ منافقین کی ایک جماعت کھلم کھلا مرتد ہوکر مشرکین سے جاملی۔ ان کے بارے میں صحابۂ کرام رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے دوگروہ ہوگئے ۔ایک فرقہ ان کو قتل کرنے پراصرار کررہا تھا اور ایک اُن کے قتل سے انکار کرتا تھا۔ اس معاملہ میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (مدارک، النساء، تحت الآیۃ: ۸۸، ص۲۴۳)