Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
270 - 476
 کسی کو اس وقت تک اپنا دوست نہ بناؤ جب تک وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت نہ کریں اور اِس سے اُن کے ایمان کا ثبوت نہ مل جائے کہ ان کا ایمان اللہ تعالیٰ اور ا س کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی رضا کے لئے ہے کسی دنیوی مقصد کے لئے نہیں ہے، پھر اگر وہ ہجرت کرنے سے منہ پھیریں اور کفر پر قائم رہنے کو اختیار کریں تو اے مسلمانو! تم انہیں پکڑو اور جہاں پاؤ قتل کرو اور اگر وہ تمہاری دوستی کا دعویٰ کریں اور دشمنوں کے خلاف تمہاری مدد کے لیے تیار ہوں تو ان کی مدد نہ قبول کرو کیونکہ یہ بھی دشمن ہیں۔ (روح البیان، النساء، تحت الآیۃ: ۸۹، ۲/۲۵۶، خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۸۹، ۱/۴۱۱، ملتقطاً)
آیت ’’ وَدُّوۡا لَوْ تَکْفُرُوۡنَ‘‘ سے معلوم ہونے والے احکام:
	اس آیت سے چند باتیں معلوم ہوئیں 
(1)… دوسرے کو کافر کرنے کی کوشش کرنا کفر ہے۔
(2)… کافر، مرتد ، بد مذہب کو دوست بنانا اور ان سے دلی محبت رکھنا حرام ہے اگرچہ وہ کلمہ پڑھتا ہو اور اپنے کو مسلمان کہتا ہو جیسے اُس زمانے کے منافق تھے۔ اعلیٰ حضرت  رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : کفار اور مشرکین سے اتحاد ووداد حرامِ قطعی ہے قرآنِ عظیم کی نُصوص اُس کی تحریم سے گونج رہے ہیں اور کچھ نہ ہو تو اتنا کافی ہے کہ
وَمَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ مِّنۡکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْہُمْ      (مائدہ:۵۱)

واحد قہار فرماتا ہے کہ تم میں جوکوئی ان سے دوستی رکھے گا وہ بے شک انہیں میں سے ہے۔            (فتاوی رضویہ، ۲۱/۲۲۹)
(3)… دینی امور میں مشرک سے مد د نہ لی جائے۔ حضرت ابو حُمید ساعدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ہم مشرکین سے مدد نہیں لیں گے۔ 
(مستدرک، کتاب الجہاد، لا نستعین بالمشرکین علی المشرکین، ۲/۴۵۶، الحدیث: ۲۶۱۰) 
اِلَّا الَّذِیۡنَ یَصِلُوۡنَ اِلٰی قَوْ مٍۭ بـَیۡنَکُمْ وَبَیۡنَہُمۡ مِّیۡثٰقٌ اَوْجَآءُوۡکُمْ حَصِرَتْ صُدُوۡرُہُمْ اَنۡ یُّقٰتِلُوۡکُمْ اَوْ یُقٰتِلُوۡا قَوْمَہُمْ ؕ وَلَوْ شَآءَ اللہُ لَسَلَّطَہُمْ عَلَیۡکُمْ فَلَقٰتَلُوۡکُمْ ۚ فَاِنِ اعْتَزَلُوۡکُمْ فَلَمْ یُقٰتِلُوۡکُمْ وَاَلْقَوْا