اور اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت فرمائی کہ انہوں نے حضور تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی عداوت میں مشرکین کے بتوں تک کو پوجا۔
طاغوت کا معنی:
اس آیت میں ’’طاغوت‘‘ کا لفظ آیا ہے۔ یہ ’’طَغٰی‘‘ سے بنا ہے جس کا معنیٰ ہے ’’سرکشی‘‘ ۔جو رب عَزَّوَجَلَّ سے سرکش ہو اور دوسروں کو سرکش بنائے وہ طاغوت ہے خواہ شیطان ہو یا انسان۔ قرآنِ کریم نے سردارانِ کفر کو بھی طاغوت کہا ہے۔ چونکہ طاغوت کے لفظ میں سرکشی کا مادہ موجود ہے اس لئے مُقَرَّبینِ بارگاہِ الٰہی کیلئے یہ لفظ ہرگز استعمال نہیں ہوسکتا بلکہ جو اُن کیلئے یہ لفظ استعمال کرے وہ خود ’’طاغوت‘‘ ہے۔
اَمْ لَہُمْ نَصِیۡبٌ مِّنَ الْمُلْکِ فَاِذًا لَّا یُؤْتُوۡنَ النَّاسَ نَقِیۡرًا ﴿ۙ۵۳﴾
ترجمۂکنزالایمان:کیا ملک میں ان کا کچھ حصہ ہے ایسا ہو تو لوگوں کو تِل بھر نہ دیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیاان کے لئے سلطنت کا کچھ حصہ ہے؟ ایسا ہو تویہ لوگوں کوتِل برابر بھی کوئی شے نہ دیتے۔
{ اَمْ لَہُمْ نَصِیۡبٌ مِّنَ الْمُلْکِ: کیاان کے لئے سلطنت کا کچھ حصہ ہے؟} یہودی کہتے تھے کہ ہم ملک اور نبوت کے زیادہ حق دار ہیں تو ہم کیسے عربوں کی اتباع کریں ؟ اللہ تعالیٰ نے اُن کے اِس دعوے کو جھٹلادیا کہ اُن کا ملک میں کیسے حصہ ہے یعنی کوئی حصہ نہیں ہے اور اگر بالفرض ان کا سلطنت میں کچھ حصہ ہوتا تو اِن کا بخل اس درجہ کا ہے کہ یہ لوگوں کوتِل برابر بھی کوئی شے نہ دیتے۔
اَمْ یَحْسُدُوۡنَ النَّاسَ عَلٰی مَاۤ اٰتٰىہُمُ اللہُ مِنۡ فَضْلِہٖ ۚ فَقَدْ اٰتَیۡنَاۤ اٰلَ اِبْرٰہِیۡمَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاٰتَیۡنٰہُمۡ مُّلْکًا عَظِیۡمًا ﴿۵۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: یا لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جواللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا تو ہم نے ابراہیم کی اولاد کو
ا