کتاب اور حکمت عطا فرمائی اور انہیں بڑا ملک دیا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بلکہ یہ لوگوں سے اس چیز پر حسد کرتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا فرمائی ہے پس بیشک ہم نے ابراہیم کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی اور انہیں بہت بڑی سلطنت دی۔
{ اَمْ یَحْسُدُوۡنَ النَّاسَ: بلکہ یہ لوگوں سے حسد کرتے ہیں۔} اس آیت میں یہودیوں کے اصل مرض کو بیان فرمایا کہ حقیقت ِ حال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کو جو نبوت عطا فرمائی اور ان کے ساتھ ان کے غلاموں کو جو نصرت، غلبہ، عزت وغیرہ نعمتیں عطا فرمائی ہیں ان پر یہ لوگ نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ اور اہلِ ایمان سے حسد کرتے ہیں حالانکہ یہودیوں کا یہ فعل سراسر جہالت و حماقت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد پر فضل فرمایا تھا کہ کسی کو کتاب عطا فرمائی، کسی کو نبوت اور کسی کو حکومت اور کسی کو اکٹھی کئی چیزیں جیسے حضرت یوسف، حضرت داؤد اور حضرت سلیمان عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو نوازا تو پھرا گر اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے حبیب، امامُ الانبیاء ، سیدُالمرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کو اپنے کرم سے کتاب اور نبوت و رسالت عطا فرماتا ہے تو اے یہودیو! تم اس سے کیوں جلتے اور حسد کرتے ہو؟
فَمِنْہُمۡ مَّنْ اٰمَنَ بِہٖ وَمِنْہُمۡ مَّنۡ صَدَّ عَنْہُ ؕ وَکَفٰی بِجَہَنَّمَ سَعِیۡرًا ﴿۵۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو ان میں کوئی اس پر ایمان لایا اور کسی نے اس سے منہ پھیرا اور دوزخ کافی ہے بھڑکتی آگ ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر ان میں کوئی تواس پر ایمان لے آیا اور کسی نے اس سے منہ پھیرا اور عذاب کے لئے جہنم کافی ہے۔
{ فَمِنْہُمۡ مَّنْ اٰمَنَ بِہٖ: پھر ان میں کوئی تواس پر ایمان لے آیا۔} ربِّ کریم عَزَّوَجَلَّکا فضل جاری و ساری رہا، اس نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے سر پر رسالت کا تاج سجایا، کتاب عطا فرمائی اور انہیں عزت و غلبہ سے نوازا۔ پھر کسی کو تو ایمان لانے کی توفیق مل گئی جیسے حضرت عبداللہبن سلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور اُن کے ساتھ والے ایمان لے آئے اور کئی محروم رہے جیسے کعب بن اشرف وغیرہ۔ تو جونبی آخر الزمان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ پر ایمان نہ لایا اس کیلئے جہنم کی بھڑکتی آگ کافی ہے۔