Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
222 - 476
ترجمۂکنزُالعِرفان: دیکھو یہ اللہ پر کیسے جھوٹ باندھ رہے ہیں اور کھلے گناہ کے لئے یہی جھوٹ کافی ہے۔ 
{ اُنۡظُرْ کَیۡفَ یَفْتَرُوۡنَ عَلَی اللہِ الۡکَذِبَ:دیکھو یہ اللہ پر کیسے جھوٹ باندھ رہے ہیں۔}جو لوگ اپنے آپ کو بے گناہ اور مقبولِ بارگاہ بتا تے ہیں حالانکہ وہ ایسے نہیں ہیں ان کے بارے میں فرمایا کہ دیکھو کہ یہ کیسے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ 
اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ اُوۡتُوۡا نَصِیۡبًا مِّنَ الْکِتٰبِ یُؤْمِنُوۡنَ بِالْجِبْتِ وَالطّٰغُوۡتِ وَیَقُوۡلُوۡنَ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ہٰۤؤُلَآءِ اَہۡدٰی مِنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا سَبِیۡلًا ﴿۵۱﴾ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ لَعَنَہُمُ اللہُ ؕ وَمَنۡ یَّلْعَنِ اللہُ فَلَنۡ تَجِدَ لَہٗ نَصِیۡرًا ﴿ؕ۵۲﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: کیا تم نے وہ نہ دیکھے جنہیں کتاب کا ایک حصہ ملا ایمان لاتے ہیں بت اور شیطان پر اور کافروں کو کہتے ہیں کہ یہ مسلمانوں سے زیادہ راہ پر ہیں۔ یہ ہیں جن پراللہ نے لعنت کی اور جسے خدا لعنت کرے تو ہر گز اس کا کوئی یار نہ پائے گا۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا تم نے ان لوگوں کو نہ دیکھا جنہیں کتاب کا ایک حصہ ملا وہ بت اور شیطان پر ایمان لاتے ہیں اور کافروں کو کہتے ہیں کہ یہ (مشرک) مسلمانوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور جس پر اللہ لعنت کردے تو ہر گز تم اس کے لئے کوئی مدد گار نہ پاؤ گے۔ 
 { اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ اُوۡتُوۡا نَصِیۡبًا مِّنَ الْکِتٰبِ: کیا تم نے ان لوگوں کو نہ دیکھا جنہیں کتاب کا ایک حصہ ملا۔} کعب بن اشرف اور اس کے ساتھ مزید ستر یہودی مشرکینِ مکہ کے پاس پہنچے اور انہیں حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ سے جنگ کرنے پر آمادہ کیا۔ قریش بولے کہ ہمیں خطرہ ہے کہ تم بھی کتابی ہو اور ان سے قریب ترہو۔ اگر ہم نے ان سے جنگ کی اور تم ان سے مل گئے تو ہم کیا کریں گے؟ اگر ہمیں اطمینان دلانا ہو تو ہمارے بتوں کو سجدہ کرو، ان بد نصیبوں نے سجدہ کر لیا۔ ابو سفیان نے کہا کہ بتاؤ ہم ٹھیک راستہ پر ہیں یا محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ) ؟ کعب بن اشرف نے کہا کہ تم ٹھیک راہ پر ہو۔ اس پر یہ آیت اتری۔  (تفسیر کبیر، النساء، تحت الآیۃ: ۵۱، ۴/۱۰۱، خازن،  النساء، تحت الآیۃ: ۵۱، ۱/۳۹۲، ملتقطاً)