گنہگاراور کبیرہ گناہوں میں مُلَوَّث ہو اور بے توبہ بھی مر جائے تب بھی اُس کے لئے جہنم میں ہمیشہ کا داخلہ نہیں ہوگا بلکہ اُس کی مغفرت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مَشِیَّت (یعنی اس کے چاہنے) پرہے، چاہے تووہ کریم معاف فرما دے اور چاہے تو اُس بندے کو اس کے گناہوں پر عذاب دینے کے بعد پھر اپنی رحمت سے جنت میں داخل فرما دے ۔ اس آیت میں یہودیوں کو ایمان لانے کی ترغیب ہے ۔
مغفرت کی امید پر گناہ کرنا بہت خطرناک ہےـ:
یہ یاد رہے کہ کفر کے علاوہ قیامت کے دن ہر گناہ کے بخشے جانے کا امکان ضرور ہے مگر اس امکان کی امید پر گناہوں میں پڑنا بہت خطرناک ہے بلکہ بعض صورتوں میں گناہ کو ہلکا سمجھنے کی صورت میں خود کفر ہوجائے گا۔ کتنا کریم ہے وہ خدا عَزَّوَجَلَّجو لاکھوں گناہ کرنے والے بندے کو معافی کی امید دلا رہا ہے اور کتنا گھٹیا ہے وہ بندہ جو ایسے کریم کے کرم و رحمت پر دل و جان سے قربان ہوکر اس کی بندگی میں لگنے کی بجائے اس کی نافرمانیوں پر کمر بستہ ہے۔
حضرت وحشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا قبولِ اسلام:
حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ وحشی جس نے حضرت حمزہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو شہید کیا تھا وہ سلطانِ دو جہاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی: مجھے امان دیجئے تا کہ میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے خدا کا کلام سنوں کہ ا س میں میری مغفرت اور نجات ہے۔ ارشاد فرمایا: مجھے یہ پسند تھا کہ میری نظر تم پر اس طرح پڑتی کہ تو امان طلب نہ کر رہا ہوتا لیکن اب تو نے امان مانگی ہے تو میں تمہیں امان دیتا ہوں تاکہ تو خدا عَزَّوَجَلَّ کا کلام سن سکے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی:
وَالَّذِیۡنَ لَا یَدْعُوۡنَ مَعَ اللہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ (الفرقان :۶۸)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہ جو اللہکے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے۔
وحشی نے کہا: میں شرک میں مبتلا رہا ہوں اور میں نے ناحق خون بھی کیا ہے اور زنا کا بھی مرتکب ہوا ہوں کیا ان گناہوں کے ہوتے حق تعالیٰ مجھے بخش دے گا؟ اس پر سرکارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے خاموشی اختیار فرمائی اور کوئی کلام نہ فرمایا، پھر یہ آیت نازل ہوئی: