Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
220 - 476
اِلَّا مَنۡ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صٰلِحًا (الفرقان:۷۰)
ترجمۂکنزُالعِرفان: مگر جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور اچھا کام کرے۔
	 وحشی نے کہا: اس آیت میں شرط کی گئی ہے کہ گناہوں سے مغفرت اسے حاصل ہو گی جو توبہ کرلے اور نیک عمل کرے،جبکہ میں نیک عمل نہ کر سکا تو میرا کیا ہو گا؟ تب یہ آیت تلاوت فرمائی:
اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ (النساء:۴۸)
ترجمۂکنزُالعِرفان:بیشک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے۔
	اب وحشی نے کہا: اس آیت میں مَغفرت مَشِیَّتِ الٰہی کے ساتھ وابستہ ہے، ممکن ہے میں ان لوگوں میں سے ہوں جن کے ساتھ حق تعالیٰ کی مشیت ِمغفرت وابستہ نہ ہو،ا س کے بعد یہ آیت نازل ہوئی :
قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اَسْرَفُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوۡا مِنۡ رَّحْمَۃِ اللہِ        (الزمر :۵۳)
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ 
	یہ آیت سن کر وحشی نے کہا:اب میں کوئی قید اور شرط نہیں دیکھتا اور اسی وقت مسلمان ہو گیا۔
(مدارج النبوہ، قسم سوم، باب ہفتم: ذکر سال ہفتم وفتح مکہ، ۲/۳۰۲) 
	مدارج کے علاوہ بقیہ کتابوں میں یہ مذکور ہے کہ یہ عرض معروض نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں نہ ہوئی بلکہ دوسرے ذریعے سے ہوئی۔ 
اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ یُزَکُّوۡنَ اَنۡفُسَہُمْ ؕ بَلِ اللہُ یُزَکِّیۡ مَنۡ یَّشَآءُ وَلَا یُظْلَمُوۡنَ فَتِیۡلًا ﴿۴۹﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جو خود اپنی ستھرائی بیان کرتے ہیں بلکہ اللہ جسے چاہے ستھرا کرے اور ان پر ظلم نہ ہوگا دانۂ خرما کے ڈورے برابر۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا تم نے ان لوگوں کونہیں دیکھا جو خود اپنی پاکیزگی بیان کرتے ہیں بلکہ اللہ جسے چاہتاہے پاکیزہ