Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
218 - 476
حضرت عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا قبولِ اسلام:
	حضرت عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جو بہت بڑے یہودی عالم تھے، اُنہوں نے ملکِ شام سے واپس آتے ہوئے راستے میں یہ آیت سنی اور اپنے گھر پہنچنے سے پہلے اسلام لا کرنبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسولَ اللہ !میں نہیں خیال کرتا تھا کہ میں اپنا منہ پیٹھ کی طرف پھر جانے سے پہلے اور چہرے کا نقشہ مٹ جانے سے قبل آپ کی خدمت میں حاضر ہوسکوں گا یعنی اس خوف سے اُنہوں نے ایمان لانے میں جلدی کی کیونکہ توریت شریف سے اُنہیں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے رسولِ برحق ہونے کا یقینی علم تھا۔ 
(خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۴۷، ۱/۳۹۰-۳۹۱)
 حضرت کعب احبار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کا قبولِ اسلام:
	 حضرت کعب احبار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جو علماءِ یہود میں بڑی قدرومنزلت رکھتے تھے انہوں نے ایک رات کسی شخص سے یہی آیت سنی تو خوفزدہ ہوئے اور حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر مسلمان ہو گئے۔ 
(فتوح الشام، ذکر فتح مدینۃ بیت المقدس، ص۲۳۴-۲۳۵، الجزء الاول)
اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَمَنۡ یُّشْرِکْ بِاللہِ فَقَدِ افْتَـرٰۤی اِثْمًا عَظِیۡمًا ﴿۴۸﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے اور جس نے خدا کا شریک ٹھہرایا اس نے بڑے گناہ کا طوفان باندھا۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اوراس سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہتا ہے معاف فرما دیتا ہے اور جس نے اللہ کا شریک ٹھہرایا توبیشک اس نے بہت بڑے گناہ کا بہتان باندھا۔ 
{ اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَکَ بِہٖ ٖ: بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے۔} آیت کا معنیٰ یہ ہے کہ جو کفر پر مرے اس کی بخشش نہیں ہوگی بلکہ اس کے لئے ہمیشگی کا عذاب ہے اور جس نے کفر نہ کیا ہو وہ خواہ کتنا ہی