یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْکِتٰبَ اٰمِنُوۡا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَکُمۡ مِّنۡ قَبْلِ اَنۡ نَّطْمِسَ وُجُوۡہًا فَنَرُدَّہَا عَلٰۤی اَدْبَارِہَاۤ اَوْ نَلْعَنَہُمْ کَمَا لَعَنَّاۤ اَصْحٰبَ السَّبْتِ ؕ وَکَانَ اَمْرُ اللہِ مَفْعُوۡلًا ﴿۴۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: اے کتاب والو ایمان لاؤ اس پر جو ہم نے اتارا تمہارے ساتھ والی کتاب کی تصدیق فرماتا قبل اس کے کہ ہم بگاڑ دیں کچھ مونہوں کو تو انہیں پھیر دیں ان کی پیٹھ کی طرف یا انہیں لعنت کریں جیسی لعنت کی ہفتہ والوں پر اور خدا کا حکم ہوکر رہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے کتاب والو! جو ہم نے تمہارے پاس موجود کتاب کی تصدیق کرنے والا (قرآن) اتارا ہے اُس پر ایمان لے آؤ ،اِس سے پہلے کہ ہم چہرے بگاڑ دیں پھر انہیں ان کی پیٹھ کی صورت پھیر دیں یا ان پر بھی ایسے ہی لعنت کریں جیسے ہفتے والوں پر لعنت کی تھی اور اللہ کا حکم ہوکر ہی رہتا ہے۔
{ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْکِتٰبَ: اے کتاب والو!} یہاں یہودیوں سے خطاب ہے کہ اے اہلِ کتاب! ہم نے قرآن اتارا ہے جو تمہارے پاس موجود کتاب یعنی توریت کی تصدیق کرنے والا ہے اس پر ایمان لے آؤ ورنہ ایسا نہ ہو کہ ہم تمہارے چہرے سے آنکھ، ناک کان، ابرو وغیرہ مٹا کرتمہاری شکلیں بگاڑ دیں اور تمہارے چہرے کو آگے سے بھی ایک ایسی کھال کی طرح کردیں جیسے سر کا پچھلا حصہ ہوتا ہے کہ اس میں نہ آنکھیں رہیں ، نہ ناک منہ وغیرہ اور یا اِن یہودیوں پر بھی ہم ایسے ہی لعنت کریں جیسے ہفتہ کے دن نافرمانی کرنے والے یہودی گروہ پر لعنت کی گئی تھی۔ لعنت تو یہودیوں پر ایسی پڑی کہ دنیا انہیں ملعون کہتی ہے۔ اس آیت کے متعلق مفسّرین کے چند اقوال ہیں : بعض کہتے ہیں کہ یہ وعید دنیا کے اعتبار سے ہے اور بعض اسے آخرت کے اعتبار سے قرار دیتے ہیں نیز بعض کہتے ہیں کہ لعنت ہوچکی ہے اور وعید واقع ہوگئی ہے اور بعض کہتے ہیں ابھی انتظار ہے۔ بعض کا قول ہے کہ چہرے بگڑنے کی یہ وعید اس صورت میں تھی جبکہ یہود یوں میں سے کوئی ایمان نہ لاتا اور چونکہ بہت سے یہودی ایمان لے آئے اِس لئے شرط نہیں پائی گئی اور وعید اُٹھ گئی۔