اس پر اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت نازل فرمائی۔ یہ دیکھ کر حضرت اُسَیْدْ بن حضیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ’’ اے آلِ ابوبکر! یہ تمہاری پہلی ہی برکت نہیں ہے یعنی تمہاری برکت سے مسلمانوں کو بہت آسانیاں ہوئیں اور بہت فوائد پہنچے۔ پھر جب اونٹ اٹھایا گیا تو اس کے نیچے ہار مل گیا۔ (بخاری، کتاب التیمم، باب التیمم، ۱/۱۳۳، الحدیث: ۳۳۴)
ہار گم ہونے اور رحمت ِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے نہ بتانے میں بہت سی حکمتیں تھیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہا کے ہار کی وجہ سے نبی رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کا وہاں قیام فرمانا حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کی فضیلت و مرتبے کو ظاہر کرتا ہے اور صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے ہار تلاش کرنے میں اس بات کی ہدایت ہے کہ حضور تاجدارِ انبیاء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی ازواجِ مُطَہَّرات کی خدمت مؤمنین کی سعادت ہے، نیز اس واقعے سے تیمم کا حکم بھی معلوم ہوگیا جس سے قیامت تک مسلمان نفع اٹھاتے رہیں گے۔ سُبْحَانَ اللہ ۔
اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ اُوۡتُوۡا نَصِیۡبًا مِّنَ الْکِتٰبِ یَشْتَرُوۡنَ الضَّلٰلَۃَ وَیُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ تَضِلُّوا السَّبِیۡلَ ﴿ؕ۴۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جن کو کتاب سے ایک حصہ ملا گمراہی مول لیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راہ سے بہک جاؤ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا تم نے ان لوگوں کو نہ دیکھا جنہیں کتاب سے ایک حصہ ملا کہ وہ گمراہی خریدتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راستے سے بھٹک جاؤ۔
{ اَلَمْ تَرَ: کیا تم نے نہ دیکھا۔} یہاں یہودیوں کے بارے میں فرمایا گیا کہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی کتاب یعنی تورات ملی جس سے اُنہوں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی نبوت کوتو پہچانا لیکن اِمامُ الانبیاءصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے متعلق جو کچھ تورات میں بیان کیا تھا اس حصّہ سے محروم رہے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی نبوت کے منکر ہوگئے۔ اس لئے فرمایا کہ انہیں کتاب کا ایک حصہ ملا ۔ گویا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی کتاب رکھنے کے باوجود ہدایت کی بجائے گمراہی کے پیروکار ہوئے اور اس کے ساتھ اے مسلمانو! تمہیں بھی گمراہ کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ ہدایت کا دارومدار