ہی حضور سید ِ کائناتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ پر کامل ایمان لانے پر ہے۔
وَاللہُ اَعْلَمُ بِاَعْدَآئِکُمْ ؕ وَکَفٰی بِاللہِ وَلِیًّا ٭۫ وَّکَفٰی بِاللہِ نَصِیۡرًا ﴿۴۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اللہ خوب جانتا ہے تمہارے دشمنوں کو اور اللہ کافی ہے والی اور اللہکافی ہے مددگار۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے اور حفاظت کے لئے اللہ ہی کافی ہے اور اللہ ہی کافی مددگار ہے ۔
{ وَاللہُ اَعْلَمُ بِاَعْدَآئِکُمْ: اور اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے۔} ارشاد فرمایا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے اور اُس نے تمہیں بھی اُن کی عداوت (دشمنی) پر خبردار کردیا ہے لہٰذا تمہیں چاہئے کہ اُن دشمنوں سے بچتے رہو۔ یقینا اللہ عَزَّوَجَلَّ ہم سے زیادہ ہمارے دشمنوں کو جانتا ہے لہٰذا جسے وہ دشمن فرما دے وہ یقینا ہمارا دشمن ہے جیسے شیطان اور کفار و منافقین۔
مِنَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا یُحَرِّفُوۡنَ الْکَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِہٖ وَیَقُوۡلُوۡنَ سَمِعْنَا وَعَصَیۡنَا وَاسْمَعْ غَیۡرَ مُسْمَعٍ وَّرٰعِنَا لَـیًّۢا بِاَلْسِنَتِہِمْ وَطَعْنًا فِی الدِّیۡنِ ؕ وَلَوْ اَنَّہُمْ قَالُوۡا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا وَاسْمَعْ وَانۡظُرْنَا لَکَانَ خَیۡرًا لَّہُمْ وَاَقْوَمَ ۙ وَلٰکِنۡ لَّعَنَہُمُ اللہُ بِکُفْرِہِمْ فَلَا یُؤْمِنُوۡنَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۴۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: کچھ یہودی کلاموں کو ان کی جگہ سے پھیرتے ہیں اور کہتے ہیں ہم نے سنا اور نہ مانا اور سنئے آپ سنائے نہ جائیں اور راعنا کہتے ہیں زبانیں پھیر کر اور دین میں طعنہ کے لیے اور اگر وہ کہتے کہ ہم نے سنا اور مانا اور حضور ہماری بات سنیں اور حضور ہم پر نظر فرمائیں تو ان کے لئے بھلائی اور راستی میں زیادہ ہوتا لیکن ان پر تواللہ نے لعنت کی ان کے کفر کے سبب تو یقین نہیں رکھتے مگر تھوڑا۔