Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
213 - 476
{ وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مَّرْضٰۤی: اور اگر تم بیمار ہو۔} آیت میں تیسری بات جو ارشاد فرمائی گئی اس میں تیمم کے حکم میں تفصیل بیان کردی گئی جس میں یہ بھی داخل ہے کہ تیمم کی اجازت جس طرح بے غسل ہونے کی صورت میں ہے اسی طرح بے وضو ہونے کی صورت میں ہے۔ چنانچہ فرمایا گیا کہ اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو اور تمہیں وضو یا غسل کی حاجت ہے یا تم بیتُ الْخَلاء سے قضائے حاجت سے فارغ ہوکر آؤ اور تمہیں وضو کی حاجت ہو یا تم نے عورتوں سے ہم بستری کی ہو اور تم پر غسل فرض ہوگیا ہو تو ان تمام صورتوں میں اگر تم پانی کے استعمال پر قادر نہ ہو خواہ پانی موجود نہ ہونے کے باعث یا دور ہونے کے سبب یا اس کے حاصل کرنے کا سامان نہ ہو نے کے سبب یا سانپ، درندہ، دُشمن وغیرہ کے ڈر سے تو تیمم کرسکتے ہو۔ یاد رہے کہ جب عورت کوحَیض و نِفاس سے فارغ ہونے کے بعد غسل کی حاجت ہو اور اگر اس وقت پانی پر قدرت نہ پائے تو اس صورت میں اسے بھی تیمّم کی اجازت ہے جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے۔
{ فَتَیَمَّمُوۡا صَعِیۡدًا طَیِّبًا: تو پاک مٹی سے تیمم کرو ۔} آیت کے آخر میں تیمم کرنے کا طریقہ بھی ارشاد فرمایا جس کا خلاصہ اور چند احکام یہ ہیں : 
تیمم کا طریقہ:
	 تیمم کرنے والا پاکی حاصل کرنے کی نیت کرے اور جو چیز مٹی کی جنس سے ہو جیسے گرد، ریت، پتھر، مٹی کا فرش وغیرہ ، اس پر دو مرتبہ ہاتھ مارے، ایک مرتبہ ہاتھ مار کر چہرے پر پھیرلے اور دوسری مرتبہ زمین پر ہاتھ پھیر کر کہنیوں سمیت دونوں ہاتھوں پر پھیرلے ۔
تیمم کے 2 احکام
(1)… ایک تیمم سے بہت سے فرائض و نوافل پڑھے جاسکتے ہیں۔ 
(2)…تیمم کرنے والے کے پیچھے غسل اور وضو کرنے والے کی اقتدا صحیح ہے۔
	نوٹ :تیمم کے بارے میں مزید احکام جاننے کے لئے بہار شریعت، جلد1، حصہ نمبر2 ’’تیمم کابیان‘‘ مطالعہ فرمائیں۔
	آیتِ مبارکہ کے آخری جز کا شانِ نزول یہ ہے کہ غزوۂ بنی مُصْطَلَق میں جب لشکرِ اسلام رات کے وقت ایک بیابان میں ٹھہرا جہاں پانی نہ تھا اور صبح وہاں سے کوچ کرنے کا ارادہ تھا، وہاں اُمّ المومنین حضرت عائشہ رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہا کا ہار گم ہوگیا، اس کی تلاش کے لئے سیّد ِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے وہاں قیام فرمایا، صبح ہوئی تو پانی نہ تھا۔