ناپاکی کی حالت میں (نماز کے قریب جاؤ) حتی کہ تم غسل کرلو سوائے اس کے کہ تم حالتِ سفر میں ہو (تو تیمم کرلو) اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو یا تم نے عورتو ں سے ہم بستری کی ہواور پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کرو تو اپنے منہ اور ہاتھوں کا مسح کرلیا کرو بیشک اللہ معاف کرنے والا، بخشنے والا ہے۔
{ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا: اے ایمان والو! } شانِ نزول: حضرت عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کچھ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی دعوت کی، جس میں کھانے کے بعد شراب پیش کی گئی، بعض حضرات نے شراب پی لی کیونکہ اس وقت تک شراب حرام نہ ہوئی تھی پھر مغرب کی نماز پڑھی، امام نے نشے کی حالت میں سورۂ کافرون کی تلاوت کی اور کلمہ ’’لَا‘‘ چھوڑ گئے جس سے ’’نہ ‘‘کی جگہ ’’ہاں ‘‘کا معنی بن گیا۔ اس سے معنی غلط ہوگئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں نشہ کی حالت میں نماز پڑھنے سے منع فرما دیا گیا، (خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۴۳، ۱/۳۸۲)
چنانچہ مسلمانوں نے نماز کے اوقات میں شراب ترک کردی، اس کے بعد سورۂ مائدہ میں شراب کو بالکل حرام کردیا گیا۔
نشے کی حالت میں کلمۂ کفر بولنے کا حکمـ:
مذکورہ واقعہ سے معلوم ہوا کہ اگر نشے کی حالت میں کوئی شخص کفریہ کلمہ بول دے تو وہ کافر نہیں ہوتا کیونکہ’’ قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ ‘‘میں دونوں جگہ’’ لَا ‘‘ کا ترک کفر ہے کیونکہ اس سے معنیٰ بنے گا کہ اے کافرو! جن بتوں کی تم عبادت کرتے ہو ان کی میں بھی عبادت کرتا ہوں۔ اور یہ کلمہ یقینا کفریہ ہے لیکن چونکہ یہاں نشے کی حالت تھی اس لئے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے اس پر کفر کا حکم نہ فرمایا بلکہ قرآنِ پاک میں اُن کو ’’ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ‘‘سے خطاب فرمایا گیا۔(1)
{ وَلَا جُنُبًا: اور نہ حالت ِ جنابت میں۔} آیت میں پہلا حکم تھا کہ نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ۔ دوسرا حکم یہ
دیا گیا کہ جب تم جنابت کی حالت میں ہو تو جب تک غسل نہ کرلو تب تک نماز کے قریب نہ جاؤ یعنی پہلے غسل کرنا فرض ہے۔ ہاں اگر سفر کی حالت میں ہو اور پانی نہ ملے تو تیمم کر کے نماز پڑھ لو۔ یہاں سفر کی قید اس لئے ہے کہ پانی نہ ملنا اکثر سفر ہی میں ہوتا ہے ورنہ نہ تو سفر میں تیمم کی کلی اجازت ہے اور نہ تیمم کی اجازت سفر کے ساتھ خاص ہے یعنی اگر سفر میں پانی مُیَسّر ہو تو تیمم کی اجازت نہ ہوگی اور یونہی اگر سفر کی حالت نہیں لیکن بیماری وغیرہ ہے جس میں پانی کا استعمال نقصان دِہ ہو تو تیمم کی اجازت ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…کفریہ جملوں اور الفاظ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی تصنیف’’کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب‘‘ کا مطالعہ ضرور کیجئے۔