Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
211 - 476
 عثمانِ غنی  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرمایا کرتے: میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ مجھے وفات کے بعد نہ اٹھایا جائے۔ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا   فرمایا کرتے: کاش! ہم پیدا ہی نہ ہوئے ہوتے۔ امُ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا فرمایا کرتیں : کاش! میں کوئی بھولی بسری چیز ہوتی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرمایا کرتے کاش! میں راکھ ہوتا۔ (قوت القلوب، الفصل الثانی والثلاثون، شرح مقام الخوف ووصف الخائفین۔۔۔ الخ،۱/۴۵۹-۴۶۰، ملخصاً)
	یہ کلمات ان ہستیوں کے ہیں جو زبانِ رسالت سے قطعی جنتی ہونے کی بشارت سے بہرہ مند ہوئے، جبکہ اب کے لوگوں کی حالت یہ ہے کہ عمل نام کی کوئی چیز پلے نہیں اور بے حساب مغفرت کایقین دل میں سجائے بیٹھے ہیں۔ اے کاش! ہمیں بھی حقیقی معنوں میں ایمان پر خاتمے کی فکر، قبرو حشر کے پُر ہَول لمحات کی تیاری کی سوچ ، عذابِ جہنم سے ڈر اور جَبّار و قَہّار رب عَزَّوَجَلَّ  کا خوف نصیب ہو جائے۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنۡتُمْ سُکَارٰی حَتّٰی تَعْلَمُوۡا مَا تَقُوۡلُوۡنَ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِیۡ سَبِیۡلٍ حَتّٰی تَغْتَسِلُوۡا ؕ وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مَّرْضٰۤی اَوْ عَلٰی سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنۡکُمۡ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوۡا مَآءً فَتَیَمَّمُوۡا صَعِیۡدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوۡا بِوُجُوۡہِکُمْ وَاَیۡدِیۡکُمْ ؕ اِنَّ اللہَ کَانَ عَفُوًّا غَفُوۡرًا ﴿۴۳﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والو نشہ کی حالت میں نماز کے پاس نہ جاؤ جب تک اتنا ہوش نہ ہو کہ جو کہو اسے سمجھو اور نہ ناپاکی کی حالت میں بے نہائے مگر مسافری میں اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا یا تم نے عورتوں کو چھوا اور پانی نہ پایا تو پاک مٹی سے تیمم کرو تو اپنے منہ اور ہاتھوں کا مسح کرو بے شک اللہ معاف فرمانے والا بخشنے والا ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! نشہ کی حالت میں نماز کے پاس نہ جاؤ جب تک سمجھنے نہ لگو وہ بات جو تم کہو اورنہ