لہٰذا (اے لوگو!) تم خوابِ غفلت سے بیدار ہو جاؤ، شیطان کے حیلوں سے ہوشیار رہو، ہر وقت اللہتعالیٰ سے مدد طلب کرتے رہو اور شیطان مردود سے اسی کی پناہ مانگتے رہو کیونکہ تمام معاملات اسی کے قبضۂ قدرت میں ہیں اور وہی توفیق عطا فرمانے والا ہے، گناہوں سے بچنے اور طاعت و عبادت کرنے کی طاقت اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہی ملتی ہے۔
(منہاج العابدین، العقبۃ الثالثۃ، العائق الثالث: الشیطان، ص۶۱-۶۲ )
وَمَاذَا عَلَیۡہِمْ لَوْ اٰمَنُوۡا بِاللہِ وَالْیَوْمِ الۡاٰخِرِ وَاَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقَہُمُ اللہُ ؕ وَکَانَ اللہُ بِہِمۡ عَلِیۡمًا ﴿۳۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور ان کا کیا نقصان تھا اگر ایمان لاتے اللہ اور قیامت پر اور اللہ کے دئیے میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے اور اللہ ان کو جانتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر وہ اللہ اور قیامت پرایمان لاتے اور اللہ کے دیے ہوئے رزق میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے تو ان کا کیا نقصان تھا اوراللہ انہیں جانتا ہے۔
{ وَمَاذَا عَلَیۡہِمْ:اور ان کا کیا نقصان تھا۔} نامْوَری اور دکھاوے کے طور پر مال خرچ کرنے والوں کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ یہ اگر اللہ تعالیٰ پر اور آخرت پر صحیح ایمان لاتے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دئیے ہوئے مال میں سے اس کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کیلئے خرچ کرتے تواِس میں سراسر اُن کا نفع ہی تھا۔ معلوم ہوا کہ راہِ خدا میں خرچ کرتے وقت اللہ تعالیٰ کی رضا اور ثواب حاصل کرنے کی نیت ہونی چاہئے، بصورت ِدیگر عمل ضائع ہو جائے گا اور اس پر سزا بھی ملے گی۔
اِنَّ اللہَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ ۚ وَ اِنۡ تَکُ حَسَنَۃً یُّضٰعِفْہَا وَیُؤْتِ مِنۡ لَّدُنْہُ اَجْرًا عَظِیۡمًا ﴿۴۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: اللہ ایک ذرہ بھر ظلم نہیں فرماتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اسے دونی کرتا اور اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتا ہے۔