Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
209 - 476
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک اللہ ایک ذرہ برابر ظلم نہیں فرماتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو وہ اسے کئی گنا بڑھادیتا ہے اور اپنے پاس سے بہت بڑا ثواب عطافرماتا ہے۔
{ اِنَّ اللہَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ :بیشک اللہ ایک ذرہ برابر ظلم نہیں فرماتا۔} اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ وہ کسی پر ایک ذرے جتنا بھی ظلم فرمائے۔ یہاں یہ بات اس معنیٰ میں ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  کسی کے نیک اعمال بغیر کسی وجہ کے ضائع فرماکر ان کی جزا سے محروم کر دے یا کسی مجرم کو اس کے جرم سے زیادہ سزا دیدے، یہ اس کی شان کے لائق نہیں بلکہ اپنے فضل ورحمت سے نیکی کا ثواب عمل کے مقابلے میں بہت زیادہ عطا فرماتا ہے۔ حضرت انس بن مالک رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، رسولُ اللہ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالیٰ ظلم سے پاک ہے مومن نیکی کرتا ہے تو دنیا میں رزق اور آخرت میں جنت کی صورت میں ثواب پاتا ہے اور کافر کوئی نیکی کرتا ہے تو اس کے بدلے دنیا میں ہی اسے رزق دے دیا جاتا ہے اور قیامت کے دن اس کے پاس کوئی نیکی نہ ہو گی جس پر اسے کوئی جزا ملے۔ 
(مسلم، کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار، باب جزاء المؤمن بحسناتہ فی الدنیا والآخرۃ۔۔۔ الخ، ص۱۵۰۸، الحدیث: ۵۶(۲۸۰۸)) 
فَکَیۡفَ اِذَا جِئْنَا مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍۭ بِشَہِیۡدٍ وَّجِئْنَا بِکَ عَلٰی ہٰۤؤُلَآءِ شَہِیۡدًا﴿ؕؔ۴۱﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: تو کیسی ہوگی جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں اور اے محبوب تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بناکر لائیں۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: تو کیسا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور اے حبیب! تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بناکر لائیں گے۔
{ فَکَیۡفَ اِذَا جِئْنَا مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍۭ بِشَہِیۡدٍ:تو کیسا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں۔} اس آیت میں کفار و منافقین اور یہودو نصاریٰ کے لئے شدید وعیدہے کہ جب قیامت کے دن تمام انبیاءعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی امت کے ہر نیک اور بد کے ایمان، کفر ،نفاق اور تمام اچھے برے اعمال کی گواہی دیں گے ،پھر ان سب پر حضور سیدُ المرسلینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کو گواہ بنایا جائے گا تو ان کا انجام کیا ہو گا۔ قیامت کے دن دی جانے والی اس گواہی کی تفصیل سورۂ بقرہ کی آیت نمبر143 کے تحت گزر چکی ہے۔