کاری میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت و عنایت سے انسان کو شیطان کے اس حربے سے بھی محفوظ فرما دے تو وہ شیطان کو یہ کہہ کر ذلیل و خوار اور نامراد کر دیتا ہے کہ اے ملعون! ابھی تک تو تو میرے پاس میرے اعمال کو فاسد و بے کار کرنے آیا کرتا تھا اور اب ان اعمال کی اصلاح و درستی کے لئے آتا ہے تاکہ میرے اعمال کو بالکل ختم کر دے ،چل دفع ہو جا، میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہو ں ، وہی میرا آقا و مولیٰ ہے، میں اپنی نیکیوں کی شہرت کا مشتاق اور طلبگار نہیں ہوں ، میرا پروردگار چاہے میرے اعمال ظاہر و مشہور کر دے چاہے پوشیدہ رکھے، چاہے مجھے عزت و مرتبہ عطا فرمائے چاہے مجھے ذلیل و رسوا کر دے ۔سب کا سب اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے، مجھے ا س کی کوئی پرواہ نہیں کہ وہ لوگوں کے سامنے میرے اعمال کا اظہار فرمائے یا نہ فرمائے۔ انسانوں کے قبضے میں کوئی چیز نہیں ہے۔
اگر انسان شیطان کے اس وار سے بھی بچ جائے تو وہ انسان کے پاس آ کر کہتا ہے کہ تجھے اعمال کرنے کی کیا ضرورت ہے کیونکہ انسان کے نیک اور بد ہونے کا فیصلہ تو روزِ اول میں ہو چکا ہے ،اس دن جو برا ہو گیا وہ برا ہی رہے گا اور جو اچھا اور نیک ہو گیاوہ نیک ہی رہے گا اس لئے اگر تجھے نیک بخت پیدا کیا گیا ہے تو اعمال کو چھوڑنا تمہارے لئے نقصان دہ نہیں اور اگر تجھے بدبخت و شقی پیدا کیاگیا ہے تو تمہارا عمل تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔اگر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے انسان کو شیطان کے اس وار سے بچا لیا تو انسان شیطان مردود سے یوں مخاطب ہوتا ہے کہ میں تواللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں اور بندے کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے آقا و مولیٰ کے احکام بجا لائے اور اللہ تعالیٰ سارے جہان کا پروردگار ہے، جو چاہتا ہے حکم کرتا اور جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ یقینا اعمال میرے لئے فائدہ مند ہیں کسی صورت میں بھی نقصان دہ نہیں ہوسکتے کیونکہ اگر میں اللہ تعالیٰ کے علم میں نیک بخت ہوں تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں زیادہ ثواب کا محتاج ہوں اور اگر خدانخواستہ علمِ الٰہی میں میرا نام بدبختوں میں ہے تو بھی عبادت کرنے سے اپنے آپ پر ملامت تو نہیں کروں گا کہ اللہتعالیٰ مجھے طاعت و عبادت کرنے پر سزا نہ دے گا اور کم از کم اتنا تو ضرور ہے کہ نافرمان ہو کر دوزخ میں جانے سے فرمانبردار ہو کر دوزخ میں جانا بہتر ہے اور پھر یہ کہ سب محض اِحتِمالات ہیں ورنہ ا س کاوعدہ بالکل حق ہے اور ا س کا فرمان بالکل سچ ہے اور اللہ تعالیٰ نے طاعت و عبادت پر ثواب عطافرمانے کا بے شمار مقامات پر وعدہ فرمایا ہے تو جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایمان اور طاعت کے ساتھ حاضر ہو گا وہ ہر گز ہر گز جہنم میں داخل نہ ہو گا بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اورا س کے سچے و مقدس وعدے کی وجہ سے جنت میں جائے گا۔