بھی مل جائے، اسے غبطہ کہتے ہیں یہ مذموم نہیں۔ (تفسیرکبیر، النساء، تحت الآیۃ: ۳۲، ۴/۶۵)
لہٰذا اللہ تعالیٰ نے جس بندے کو دین یا دنیا کی جِہت سے جو نعمت عطا کی اسے اس پر راضی رہنا چاہئے۔ شانِ نزول: جب آیتِ میراث میں ’’ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ ۚ ‘‘والا حصہ نازل ہوا اور میت کے ترکہ میں مرد کا حصہ عورت سے دگنا مقرر کیا گیا تو مردوں نے کہا کہ ہمیں اُمید ہے کہ آخرت میں نیکیوں کا ثواب بھی ہمیں عورتوں سے دگنا ملے گا اور عورتوں نے کہا کہ ہمیں اُمید ہے کہ گناہ کا عذاب ہمیں مردوں سے آدھا ہوگا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اِس میں بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے جس کو جو فضیلت دی وہ عین حکمت ہے بندے کو چاہئے کہ وہ اُس کی قضا پر راضی رہے۔
(خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۳۲، ۱/۳۷۲)
دل کے صبر و قرار کا نسخہ:
دل کے صبر و قرار کا نسخہ ہی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا پر راضی رہنا ہے ورنہ دنیا میں کوئی شخص کسی نعمت کی انتہاء کو نہیں پہنچا ہوا اور اگر بالفرض کوئی پہنچا بھی ہو تو کسی دوسری نعمت میں ضرور کم تر ہوگا تو اگر دل کو انہی آرزؤوں اور تمناؤں کا مرکز بنا کر رکھا تو ہزاروں نعمتوں کا مالک ہوکر بھی دل کو قرار نہیں مل سکتا، جیسے ایک آدمی ایک ارب روپے کا مالک ہے لیکن خوبصورت نہیں تو اگر وہ خوبصورتی کی تمنا کرتا رہے گا تو جینا دوبھر ہوجائے گا اور اگر ایک آدمی خوبصورت ہے لیکن جیب میں پیسہ نہیں اور وہ پیسے کو روتا رہے گا تو بھی بے قرار رہے گا اور جس کے پاس پیسہ اور خوبصورتی کچھ نہ ہو لیکن وہ کہے کہ میں اللہ عَزَّوَجَلَّکی رضا پر راضی ہوں اور پھر وہ صبر کرکے آخرت کے ثواب کو پیشِ نظر رکھے تو یقینا ایسا آدمی دل کا سکون پالے گا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: اگر ابنِ آدم کے پا س مال کی دو وادیاں بھی ہوں تو وہ یہ پسند کرے گا کہ اس کے پاس تیسری وادی بھی ہو اور اس کاپیٹ تو مٹی ہی بھر سکتی ہے، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا جو توبہ کرے۔
(بخاری، کتاب الرقاق، باب ما یتقی من فتنۃ المال، ۴/۲۲۸، الحدیث: ۶۴۳۶)
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: تم اپنے سے نیچے والے کو دیکھو اور جو تم سے اوپر ہو اسے نہ دیکھو ،یہ اس سے بہتر ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی اپنے اوپر نعمت کو حقیر جانو۔
(مسلم، کتاب الزہد والرقائق، ص۱۵۸۴، الحدیث: ۹(۲۹۶۳))
{ لِلرِّجَالِ نَصِیۡبٌ مِّمَّا اکْتَسَبُوۡا: مردوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ ہے۔} میاں بیوی میں سے ہر ایک کو اس کے اپنے نیک اعمال کی جزا ملے گی، دونوں کا نیک اور پرہیز گار ہونا انہیں اعمال سے بے نیاز نہ کرے گا۔