Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
193 - 476
شانِ نزول : اُم المؤمنین حضرت اُم سلمہ رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہانے فرمایا کہ ہم بھی اگر مرد ہوتے تو جہاد کرتے اور مردوں کی طرح جان فدا کرنے کا ثوابِ عظیم پاتے۔ 			  
(جلالین، النساء، تحت الآیۃ: ۳۲، ص۲۷)
	اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور اِنہیں تسکین دی گئی کہ مرد جہاد سے ثواب حاصل کرسکتے ہیں تو عورتیں شوہروں کی فرمانبرداری اور پاکدامنی سے ثواب حاصل کرسکتی ہیں۔
{ وَسْـَٔلُوا اللہَ مِنۡ فَضْلِہٖ :اور اللہ سے اس کا فضل مانگو۔} سُبْحَانَ اللہ، دلوں کے قرار کا کتنا پیارا بیان فرمایا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اس کا فضل مانگو کہ حقیقت میں سب سے بڑی چیز اللہ کریم کا فضل و کرم ہے۔ اعمال میں کسی کو دوسرے سے لاکھ گنا زیادہ بھی ثواب ملتا ہو لیکن اس کے باوجود وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل ہی کا  محتاج ہے کیونکہ اس کا جنت میں داخلہ تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل ہی سے ہوگا ۔ بغیر فضل کے اپنے عمل سے کوئی جنت میں نہیں جائے گا لہٰذا اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اس کا فضل مانگنا چاہیے۔ 
وَلِکُلٍّ جَعَلْنَا مَوٰلِیَ مِمَّا تَرَکَ الْوٰلِدَانِ وَالۡاَقْرَبُوۡنَ ؕ وَالَّذِیۡنَ عَقَدَتْ اَیۡمٰنُکُمْ فَاٰتُوۡہُمْ نَصِیۡبَہُمْ ؕ اِنَّ اللہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدًا ﴿٪۳۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور ہم نے سب کے لیے مال کے مستحق بنا دیے ہیں جو کچھ چھوڑ جائیں ماں باپ اور قرابت والے اور وہ جن سے تمہارا حلف بندھ چکا انہیں ان کا حصہ دو، بے شک ہر چیز اللہ کے سامنے ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان:اور ماں باپ اور رشتے دار جو کچھ مال چھوڑیں ہم نے سب کے لئے (اُس مال میں ) مستحق بنا دیے ہیں اور جن سے تمہارا معاہدہ ہوچکا ہے انہیں ان کا حصہ دو۔ بیشک اللہ ہر شے پر گواہ ہے۔ 
{ وَالَّذِیۡنَ عَقَدَتْ اَیۡمٰنُکُمْ:اور جن سے تمہارا معاہدہ ہوچکا ہے۔} اس سے عَقْدِمُوَالات مراد ہے اس کی صورت یہ ہے کہ ایسا شخص جس کا نسب مجہول ہو وہ دوسرے سے یہ کہے کہ تو میرا مولیٰ ہے میں مرجاؤں تو تو میرا وارث ہو گا اور میں کوئی جرم کروں تو تجھے دِیَت دینی ہوگی۔ دوسرا کہے: میں نے قبول کیا۔ اِس صورت میں یہ عقد صحیح ہوجاتا ہے اور قبول کرنے والا وارث بن جاتا ہے اور دِیَت بھی اُس پر آجاتی ہے اور دوسرا بھی اِسی کی طرح سے مجہولُ النَّسب ہو اور ایسا