Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
191 - 476
دیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ یعنی جنت میں داخل کریں گے۔ یاد رہے کہ یہ معاملہ بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مَشِیَّت اور مرضی پر ہے۔ یہ بیان صغیرہ گناہوں کے متعلق ہے، کبیرہ گناہ توبہ ہی سے معاف ہوتے ہیں ، البتہ حجِ مقبول پر بھی یہ بشارت ہے۔ اس کی مزید تحقیق کیلئے فتاویٰ رضویہ شریف کی چوبیسویں جلد میں اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی نہایت تحقیقی کتاب ’’اَعْجَبُ الْاِمْدَاد فِیْ مُکَفِّرَاتِ حُقُوْقِ الْعِبَاد‘‘(بندوں کے حقوق کے معاف کروانے کے طریقے) کا مطالعہ فرمائیں۔(1)
وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللہُ بِہٖ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍؕ لِلرِّجَالِ نَصِیۡبٌ مِّمَّا اکْتَسَبُوۡا ؕ وَلِلنِّسَآءِ نَصِیۡبٌ مِّمَّا اکْتَسَبْنَ ؕ وَسْـَٔلُوا اللہَ مِنۡ فَضْلِہٖ ؕ اِنَّ اللہَ کَانَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا ﴿۳۲﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور ا س کی آرزو نہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پر بڑائی دی مردوں کے لیے ان کی کمائی سے حصہ ہے اور عورتوں کے لیے ان کی کمائی سے حصہ اوراللہ سے اس کا فضل مانگو بے شک اللہ سب کچھ جانتا ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تم ا س چیز کی تمنا نہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پرفضیلت دی ہے ۔ مردوں کے لئے ان کے اعمال سے حصہ ہے، اور عورتوں کے لئے ان کے اعمال سے حصہ ہے اوراللہ سے اس کا فضل مانگو ۔ بیشک اللہ ہر شے کو جاننے والا ہے۔
{ وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللہُ بِہٖ:اور ا س کی آرزو نہ کرو جس سے اللہ نے بڑائی دی۔} جب ایک انسان دوسرے کے پاس کوئی ایسی نعمت دیکھتا ہے جو اس کے پا س نہیں تو ا س کا دل تَشویش میں مبتلا ہو جاتا ہے ایسی صورت میں اس کی حالت دو طرح کی ہوتی ہے(1) وہ انسان یہ تمنا کرتا ہے کہ یہ نعمت دوسرے سے چھن جائے اور مجھے حاصل ہو جائے۔ یہ حسد ہے اور حسد مذموم اور حرام ہے۔ (2) دوسرے سے نعمت چھن جانے کی تمنا نہ ہو بلکہ یہ آرزو ہو کہ ا س جیسی مجھے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی یہ کتاب تسہیل وتخریج کے ساتھ بنام’’حقوق العباد کیسے معاف ہوں؟‘‘مکتبۃ المدینہ نے بھی شائع کرنے کی سعادت حاصل کی ہے، وہاں سے خرید کر اس کا مطالعہ فرمائیں۔