Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
185 - 476
(4)…اپنے مال کی حد سے زیادہ تعریف نہ کرے کہ یہ جھوٹ اور فریب ہے اور اگر خریدار ا س مال کی صفات سے پہلے ہی آگاہ ہو تو اس کی جائز اور صحیح تعریف بھی نہ کرے کہ یہ فضول ہے۔
(5)… عیب دار مال ہی نہ خریدے اگر خریدے تو دل میں یہ عہد کرے کہ میں خریدار کو تمام عیب بتا دوں گا اور اگر کسی نے مجھے دھوکہ دیا تو اس نقصان کو اپنی ذات تک محدود رکھوں گا دوسروں پر نہ ڈالوں گا کیونکہ جب یہ خود دھوکہ باز پر لعنت کر رہا ہے تو اپنی ذات کو دوسروں کی لعنت میں شامل نہیں کرنا چاہئے۔
(6)…اگر اپنے پاس موجود صحیح مال میں کوئی عیب پیدا ہو گیا تو اسے گاہک سے نہ چھپائے ورنہ ظالم اور گناہگار ہو گا۔
(7)…وزن کرنے اور ناپنے میں فریب نہ کرے بلکہ پورا تولے اور پورا ناپے۔
(8)…اصل قیمت کو چھپا کر کسی آدمی کو قیمت میں دھوکہ نہیں دینا چاہئے۔
(9)…بہت زیادہ نفع نہ لے اگرچہ خریدار کسی مجبوری کی وجہ سے اس زیادتی پر راضی ہو۔
(10)… محتاجوں کا مال زیادہ قیمت سے خریدے تاکہ انہیں بھی مسرت نصیب ہو جیسے بیوہ کا سُوت اور وہ پھل جو فقراء کے ہاتھ سے واپس آیا ہو کیونکہ اس طرح کی چشم پوشی صدقہ سے بھی زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔
(11)…قرض خواہ کے تقاضے سے پہلے اس کا قرض ادا کر دے اور اسے اپنے پاس بلا کر دینے کی بجائے اس کے پاس جا کر دے۔
(12)…جس شخص سے معاملہ کرے ،اگر وہ معاملہ کے بعد پریشان ہو تو ا س سے معاملہ فسخ کر دے ۔
(13)…دنیا کا بازار اسے آخرت کے بازار سے نہ روکے اور آخرت کا بازار مساجد ہیں۔
(14)…بازار میں زیادہ دیر رہنے کی کوشش نہ کرے مثلا ًسب سے پہلے جائے اور سب کے بعد آئے۔
(کیمیائے سعادت، رکن دوم در معاملات، اصل سوم آداب کسب، ۱/۳۲۶-۳۴۰، ملتقطاً)
{ وَلَا تَقْتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمْ:اور اپنی جانوں کو قتل نہ کرو۔} یعنی ایسے کام کر کے جو دنیا و آخرت میں ہلاکت کا باعث ہوں اپنی جانوں کو قتل نہ کرو۔ 					   (خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۲۹، ۱/۳۷۰)
 خود کو ہلاک کرنے کی صورتیں :
	خود کو ہلاک کرنے کی مختلف صورتیں ہیں ، اور ان میں سے 4 صورتیں درج ذیل ہیں :
(1)… مسلمانوں کا ایک دوسرے کو قتل کرنا خود کو ہلاک کرنا ہے کیونکہ احادیث میں مسلمانوں کو ایک جسم کی مانند فرمایا گیا