Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
186 - 476
ہے، جیسا کہ حضرت نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’تم مسلمانوں کو دیکھو گے کہ وہ ایک دوسرے پر رحم کرنے، دوستی رکھنے اور شفقت کا مظاہرہ کرنے میں ایک جسم کی مانند ہوں گے چنانچہ جسم کے جب کسی بھی حصہ کو تکلیف پہنچتی ہے تو سارا جسم جاگنے اور بخار وغیرہ میں اس کا شریک ہوتا ہے۔ 
(بخاری، کتاب الادب، باب رحمۃ الناس والبہائم، ۴/۱۰۳، الحدیث: ۶۰۱۱)
	حضرت نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ہی روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ مسلمان (باہم) ایک شخص کی طرح ہیں ، اگر اس کی آنکھ میں تکلیف ہو تو ا س کے سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہے اور اگر اس کے سر میں تکلیف ہو تو اس کے سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہے ۔
(مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب تراحم المؤمنین وتعاطفہم وتعاضدہم، ص۱۳۹۶، الحدیث: ۶۷(۲۵۸۶)) 
	جب مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں تو ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کو قتل کرنا ایسا ہی جیسے ا س نے خود کو قتل کیا۔
(2)…ایسا کام کرنا جس کی سز امیں اسے قتل کر دیا جائے جیسے کسی مسلمان کو قتل کرنا، شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کرنا یامُرْتَدْہونا بھی خود کو ہلاک کرنے کی صورتیں ہیں۔ یاد رہے کہ زنا کرنا اور کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنا کبیرہ گنا ہ ہے، زنا کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤی اِنَّہٗ کَانَ فٰحِشَۃً ؕ وَسَآءَ سَبِیۡلًا ﴿۳۲﴾                     (بنی اسرائیل:۳۲)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ بیشک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے۔
	اور کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنے والے کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:
وَمَنۡ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ خَالِدًا فِیۡہَا وَغَضِبَ اللہُ عَلَیۡہِ وَلَعَنَہٗ وَاَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیۡمًا ﴿۹۳﴾ (النساء:۹۳)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جو کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کردے تو اس کا بدلہ جہنم ہے عرصہ دراز تک اس میں رہے گااور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
	اورمُرْتَدْ ہونے والوں کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:
وَمَنۡ یَّرْتَدِدْ مِنۡکُمْ عَنۡ دِیۡنِہٖ فَیَمُتْ وَہُوَکَافِرٌ فَاُولٰٓئِکَ حَبِطَتْ اَعْمٰلُہُمْ فِی الدُّنْیَا وَالۡاٰخِرَۃِۚ وَ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ ہُمْ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ﴿۲۱۷﴾ (بقرہ:۲۱۷)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور تم میں جو کوئی اپنے دین سے مرتد ہوجائے پھر کافر ہی مرجائے تو ان لوگوں کے تمام اعمال دنیا و آخرت میں برباد ہوگئے اور وہ دوزخ والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔