Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
184 - 476
بیچیں تو ا س کی تعریف نہیں کرتے، جب ان پر کسی کا آتا ہو تو دینے میں پس و پیش نہیں کرتے اور جب انہوں نے کسی سے لینا ہو تو اس پر تنگی نہیں کرتے۔ 				          (در منثور، النساء، تحت الآیۃ: ۲۹، ۲/۴۹۵)
(3)… حضرت رفاعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت کے دن تاجر فاسق اٹھائے جائیں گے سوا ئے اس تاجر کے جو اللہ  عَزَّوَجَلَّ سے ڈرے ،بھلائی کرے اور سچ بولے۔ 
(ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی التجار وتسمیۃ النبیصلی اللہ علیہ وسلم ایاہم، ۳/۵، الحدیث: ۱۲۱۴) 
(4)… حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص تھا جس کے پاس اس کی روح قبض کرنے فرشتہ آیا تو اس سے کہا گیا: کیا تو نے کوئی نیکی کی ہے؟ وہ بولا: میں نہیں جانتا ۔اس سے کہا گیا :غور تو کر۔ کہنے لگا: اس کے سوا کچھ اور نہیں جانتا کہ میں دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان سے (اپنی رقم کا) تقاضا کرتا تو امیر کو مہلت دیتا تھا اور غریب کو معاف کر دیتا تھا، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’اے فرشتو! اس سے درگزر کرو ۔ (مسند امام احمد ،حدیث حذیفۃ بن الیمان، ۹/۹۸، الحدیث: ۲۳۴۱۳، مسلم، کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۳، الحدیث: ۲۶(۱۵۶۰)) 
تجارت کے آداب:
	اس سے پہلے تجارت کے فضائل بیان کئے گئے اور ذیلی سطور میں تجارت کے 14 آداب بیان کئے گئے ہیں جن میں سے اکثر آداب ایسے ہیں جن پر عمل کرنا ہر تاجر کے لئے شرعا ًلازم ہے۔
(1)…تاجر کو چاہئے کہ وہ روزانہ صبح کے وقت اچھے ارادے یعنی نیتیں دل میں تازہ کرے کہ بازار اس لئے جاتا ہوں تاکہ حلال کمائی سے اپنے اہل وعیال کی شِکم پروری کروں اور وہ مخلوق سے بے نیاز ہو جائیں اور مجھے اتنی فراغت مل جائے کہ میں اللہ تعالیٰ کی بندگی کرتا رہوں اورراہِ آخرت پر گامزن رہوں۔ نیز یہ بھی نیت کرے کہ میں مخلوق کے ساتھ شفقت، خلوص اور امانت داری کروں گا، نیکی کا حکم دوں گا، برائی سے منع کروں گا اور خیانت کرنے والے سے باز پُرس کروں گا۔
(2)…تجارت کرنے والا جعلی اور اصلی نوٹوں کو پہچاننے کا طریقہ سیکھے اور نہ خود جعلی نوٹ لے نہ کسی اور کو دے تاکہ مسلمانوں کا حق ضائع نہ ہو ۔
(3)…اگر کوئی جعلی نوٹ دے جائے (اور دینے والے کا پتہ نہ چلے) تو وہ کسی اور کو نہیں دینا چاہئے (اور اگر دینے والے کاپتا چل جائے تو اسے بھی وہ جعلی نوٹ واپس نہیں دینا چاہئے) بلکہ پھاڑ کے پھینک دے تاکہ وہ کسی اور کو دھوکہ نہ دے سکے۔