(3)… تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے حضرت سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ارشاد فرمایا: ’’اے سعد ! اپنی غذا پاک کر لو! مُستَجابُ الدَّعْوات ہو جاؤ گے، اس ذاتِ پاک کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ) کی جان ہے! بندہ حرام کا لقمہ اپنے پیٹ میں ڈالتا ہے تو اس کے 40دن کے عمل قبول نہیں ہوتے اور جس بندے کا گوشت حرام سے پلا بڑھا ہواس کے لئے آگ زیادہ بہترہے۔ (معجم الاوسط، من اسمہ محمد، ۵/۳۴، الحدیث: ۶۴۹۵)
(4)…حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : سرکارِ دوعالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ایک شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے، اس کے بال پَراگندہ اور بدن غبار آلود ہے اور وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر یا رب! یارب! پکار رہا ہے حالانکہ اس کا کھانا حرام، پینا حرام، لباس حرام ، اور غذا حرام ہو پھر اس کی دعا کیسے قبول ہو گی۔
(مسلم، کتاب الزکاۃ، باب قبول الصدقۃ من الکسب الطیب وتربیتہا، ص۵۰۶، الحدیث: ۶۵(۱۰۱۵))
{ اِلَّاۤ اَنۡ تَکُوۡنَ تِجٰرَۃً عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡکُمْ:مگریہ کہ تمہاری باہمی رضامندی سے تجارت ہو۔} یعنی باہمی رضامندی سے جو تجارت کرو وہ تمہارے لئے حلال ہے۔ باہمی رضامندی کی قید سے معلوم ہوا کہ خرید و فروخت کی وہ تمام صورتیں جن میں فریقین کی رضامندی نہ ہو درست نہیں جیسے اکثرضبط شدہ چیزوں کی نیلامی خریدنا کہ اس میں مالک راضی نہیں ہوتا یونہی کسی کی دکان ،مکان زمین یا جائیداد پر جبری قبضہ کر لینا حرام ہے۔ یاد رہے کہ مال کا مالک بننے کے تجارت کے علاوہ اور بھی بہت سے جائز اَسباب ہیں جیسے تحفے کی صورت میں ، وصیت یا وراثت میں مال حاصل ہو تو یہ بھی جائز مال ہے ۔ تجارت کا بطورِ خاص اس لئے ذکر کیا گیا کہ یہ مالک بننے کی اختیاری صورت ہے۔
تجارت کے فضائلـ:
احادیث میں تجارت کے بے شمار فضائل بیان کئے گئے ہیں ، ان میں سے 4 احادیث درج ذیل ہیں۔
(1)… حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’سچا اور امانت دار تاجر انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہو گا۔
(ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی التجار وتسمیۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ایاہم، ۳/۵، الحدیث: ۱۲۱۲)
(2)… حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’پاکیزہ کمائی ان تاجروں کی ہے جو گفتگو کے وقت جھوٹ نہیں بولتے، وعدہ کریں تو خلاف ورزی نہیں کرتے، جب ان کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت نہیں کرتے، جب کوئی چیز خریدیں تو اس کی برائی بیان نہیں کرتے اور جب کچھ