Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
176 - 476
اور حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ غزوۂ خیبر کے موقع پرنبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے متعہ سے منع فرما دیا۔ (ترمذی، کتاب النکاح، باب ما جاء فی نکاح المتعۃ، ۲/۳۶۵، الحدیث: ۱۱۲۴) 
وَمَنۡ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنۡکُمْ طَوْلًا اَنۡ یَّنۡکِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنۡ مَّا مَلَکَتْ اَیۡمٰنُکُمۡ مِّنۡ فَتَیٰتِکُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ؕ وَاللہُ اَعْلَمُ بِاِیۡمٰنِکُمْ ؕ بَعْضُکُمۡ مِّنۡۢ بَعْضٍ ۚ فَانۡکِحُوۡہُنَّ بِاِذْنِ اَہۡلِہِنَّ وَاٰتُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ بِالْمَعْرُوۡفِ مُحْصَنٰتٍ غَیۡرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّلَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ ۚ فَاِذَاۤ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیۡنَ بِفٰحِشَۃٍ فَعَلَیۡہِنَّ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ ؕ ذٰلِکَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْکُمْ ؕ وَ اَنۡ تَصْبِرُوۡا خَیۡرٌ لَّکُمْ ؕ وَاللہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۲۵﴾٪ 
ترجمۂکنزالایمان: اور تم میں بے مقدوری کے باعث جن کے نکاح میں آزاد عورتیں ایمان والیاں نہ ہوں تو ان سے نکاح کرے جو تمہارے ہاتھ کی مِلک ہیں ایمان والی کنیزیں اور اللہ  تمہارے ایمان کو خوب جانتا ہے تم میں ایک دوسرے سے ہے تو ان سے نکاح کرو ان کے مالکوں کی اجازت سے اور حسبِ دستور ان کے مہر انہیں دو قید میں آتیاں نہ مستی نکالتی اور نہ یار بناتی جب وہ قید میں آجائیں پھر برا کام کریں تو ان پر اس سزا کی آدھی ہے جو آزاد عورتوں پر ہے یہ اس کے لیے جسے تم میں سے زنا کا اندیشہ ہے اور صبر کرنا تمہارے لئے بہتر ہے اور اللہ  بخشنے والا مہربان ہے۔ 

ترجمۂکنزُالعِرفان:  اور تم میں سے جو کوئی اتنی قدرت نہ رکھتا ہو کہ آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرسکے تو ان مسلمان کنیزوں سے نکاح کرلے جو تمہاری مِلک ہیں اور اللہ تمہارے ایمان کو خوب جانتا ہے۔ تم سب آپس میں ایک جیسے ہو تو ان کے مالکوں کی اجازت سے ان سے نکاح کرلو اور اچھے طریقے سے انہیں ان کے مہر دیدو اس حال میں کہ وہ نکاح