Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
175 - 476
مہر کے چندضروری مسائل:
	اس آیت میں مہر کا ذکر ہوا اس مناسبت سے یہاں مہر سے متعلق چند ضروری مسائل ذکر کئے جاتے ہیں :
(1)…مہر کی کم از کم مقدار دس درہم ہے، چاندی میں ا س کا وزن دو تولے ساڑھے سات ماشے ہے، اس کی جو قیمت بنتی ہو وہ مہر کی کم از کم مقدار ہے، زیادہ کی کوئی حد نہیں باہمی رضا مندی سے جتنا چاہے مقرر کیا جاسکتا ہے لیکن یہ خیال رکھیں کہ مہر اتنا مقرر کریں جتنا دے سکتے ہوں۔
(2)…مہر کا مال ہونا ضروری ہے اور جو چیز مال نہیں وہ مہر نہیں بن سکتی، مثلا ًمہر یہ ٹھہرا کہ شوہر عورت کو قرآنِ مجید یا علمِ دین پڑھا دے گا تواس صورت میں مہرِ مثل واجب ہو گا۔
(3)… نکاح میں مہر کا ذکر ہی نہ ہوا یا مہر کی نفی کر دی کہ مہر کے بغیر نکاح کیا تو نکاح ہو جائے گا اور اگر خلوتِ صحیحہ ہو گئی یا دونوں میں سے کوئی مر گیا اور نکاح کے بعد میاں بیوی میں کوئی مہر طے نہیں پایا تھا تو مہرِ مثل واجب ہے ورنہ جو طے پایا تھا وہ واجب ہے۔ مہر سے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے بہار شریعت حصہ 7کا مطالعہ کیجئے۔
{ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمۡ بِہٖ مِنْہُنَّ: توان میں سے جن عورتوں سے نکاح کرنا چاہو۔} یعنی جن عورتوں سے تم شرعی نکاح کر کے جماع وغیرہ کافائدہ حاصل کرنا چاہو تو انہیں ان کے مقرر کردہ مہر ادا کرو۔ 
عورت سے نفع اٹھانے کی جائز صورتیں :
	یاد رہے کہ اسلام میں عورت سے نفع اٹھانے کی صرف دو صورتیں جائز ہیں جو قرآنِ پاک میں بیان کی گئی ہیں : (1) شرعی نکاح کے ذریعے۔ (2) عورت جس صورت میں لونڈی بن جائے۔ لہٰذا اس کے علاوہ ہر صورت حرام ہے۔ شروعِ اسلام میں کچھ وقت کیلئے نکاح سے کچھ ملتا جلتا معاہدہ کرکے فائدہ اٹھانے کی اجازت تھی لیکن بعد میں تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے اسے قیامت تک کے لئے حرام فرما دیا۔ جیساکہ حضرت سَبُرَہ جُہَنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور سیدُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! میں نے تمہیں عورتوں سے (متعہ کی صورت میں ) نفع اٹھانے کی اجازت دی تھی اور اب اللہتعالیٰ نے اسے قیامت تک کے لئے حرام کر دیا ہے تو جس کے پاس کوئی ایسی عورت ہو وہ اسے چھوڑ دے اور جو انہیں دے چکے ہو اس میں سے کچھ نہ لو۔ 
(مسلم، کتاب النکاح، باب نکاح المتعۃ وبیان انّہ ابیح ثمّ نسخ۔۔۔ الخ، ص۷۲۹، الحدیث: ۲۱(۱۴۰۶))